رسائی کے لنکس

کیلیفورنیا کی تین مساجد کو دھمکی آمیز خط موصول


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سان جوز شہر کے محکمہ پولیس کے ترجمان سارجنٹ اینریک گارسیا نے کہا کہ پولیس نے اس کی "نفرت پر مبنی" واقعہ کے طور پر تحقیقات شروع کر دی ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں شہری حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظم نے مساجد کے تحفظ کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ کیلیفورنیا میں کئی مساجد کو ایک خط ملنے کے بعد سامنے آیا جس میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی دی گئی ہے۔

امریکہ کے ایک موقر اخبار لاس اینجلس ٹائمز میں ہفتے کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہاتھ سے لکھے ہوئے اسی خط کی فوٹو کاپی گزشتہ ہفتے اسلامک سینٹر لانگ بیچ، اسلامک سینٹر آف کلیرمون اور سان جوز کے ایور گرین اسلامک سینٹر کو بھی موصول ہوئی۔

اس خط میں مسلمانوں کے بارے میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے گئےجو ایک نام نہاد گروپ " امریکن فار اے بیٹر وے" کی طرف سے لکھا گیا ہے۔ لاس اینجلس کی مسجد کو یہ خط بدھ کو جبکہ 'سان ہوزے' کی مسجد کو یہ خط جمعرات کو موصول ہوا۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ "شہر میں ایک نیا شیرف آ گیا ہے ۔۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ ۔ وہ امریکہ کو صاف کرنے جارہا ہے اور اس کو وہ دوبارہ روشن بنائے گا اور اس کا آغاز وہ مسلمانوں تم سے کرے گا۔"

کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسین آنجلوس نے کہا کہ لاس اینجلس کاؤنٹی کی مسجد میں موجود لوگوں کی اس نفرت انگیز خط کی وجہ سے دل شکنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی مہم کے " نفرت انگیز غیر ذمہ دارانہ بیانات" ٹرمپ کے نام نہاد حامیوں میں ناشائستہ رویوں، نفرت اور غصہ " کے فروغ کا سبب بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ (ٹرمپ نے) لوگوں کو نسل پرست بنایا ہے۔۔۔وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں اور میں اس کا احترام کرتا ہوں، میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یاد دلاؤں گا کہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام امریکی شہریوں کے صدر کے طور پر کام کریں۔"

سان جوز شہر کے محکمہ پولیس کے ترجمان سارجنٹ اینریک گارسیا نے کہا کہ پولیس نے اس کی "نفرت پر مبنی" واقعہ کے طور پر تحقیقات شروع کر دی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG