رسائی کے لنکس

آسٹریلیا: جنگلی جھاڑیوں میں آگ سے سو گھر تباہ، تین افراد لاپتا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس ہفتے جنگلی جھاڑیوں کو لگنے والی آگ اب تک 130,965 ایکڑ رقبے پر پھیل چکی ہے جو جمعرات کی رات تیز اور گرم ہوا کے باعث یارلوپ قصبے تک پہنچ گئی جہاں صرف 545 افراد آباد ہیں۔

امدادی حکام نے جمعہ کو بتایا ہے کہ مغربی آسٹریلیا میں پرتھ کے جنوب میں واقع ایک دیہی قصبے میں جنگلی جھاڑیوں کو لگنے والی آگ سے وہاں سو گھر تباہ اور تین افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔

اس ہفتے جنگلی جھاڑیوں کو لگنے والی آگ اب تک 130,965 ایکڑ رقبے پر پھیل چکی ہے جو جمعرات کی رات تیز اور گرم ہوا کے باعث یارلوپ قصبے تک پہنچ گئی جہاں صرف 545 افراد آباد ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق قصبے میں ایک پوسٹ آفس، دکانوں اور فائر اسٹیشن کے علاوہ اب تک 95 گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

ہنگامی امداد پہنچانے والے حکام کا کہنا ہے کہ مغربی آسٹریلیا میں گائے کا گوشت پیدا کرنے والے قصبوں کو جنگلی آگ سے بدستور خطرہ لاحق ہے۔

کرہ ارض کے جنوبی حصے پر واقع ہونے کے باعث آسٹریلیا میں اس وقت موسم گرما ہے۔ طویل اور خشک گرمی کی وجہ سے اس سے قبل بھی ملک کے مختلف حصوں میں جنگلی جھاڑیوں کو آگ لگنے کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔

نومبر میں مغربی آسٹریلیا میں بجلی گرنے سے جنگلی آگ لگنے کے متعدد واقعات میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ جنوب میں واقع وکٹوریہ ریاست میں کرسمس کے موقع پر آگ لگنے سے دو افراد ہلاک اور سو سے زائد گھر تباہ ہو گئے تھے۔

آسٹریلیا میں ہر سال موسم گرما میں جنگلی جھاڑیوں کو آگ لگنے کے واقعات ہوتے ہیں مگر موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث سائنسدانوں نے انتباہ کیا ہے کہ آگ کے واقعات شدید اور طویل ہو سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG