رسائی کے لنکس

سپر مون 2014ء: چودہویں کا زیادہ بڑا اور روشن چاند


ماہرین فلکیات کے مطابق سپر مون کا یہ دلکش نظارہ اس برس موسم گرما کے دوران تین بار دیکھا جا سکے گا۔

دنیا کے کئی ممالک میں ہفتے کی شام آسمان پرجو چاند نمودار ہوگا وہ عام چودہویں کے چاند سے نسبتاً زیادہ بڑا اور زیادہ روشن ہوگا۔ اس چاند کو سائنسی اصطلاح میں 'سپر مون' کا نام دیا جاتا ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق سپر مون کا یہ دلکش نظارہ اس برس موسم گرما کے دوران تین بار دیکھا جا سکے گا۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ ہفتےکی شام نمودار ہونے والا سپر مون زمین سے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے غیر معمولی طور پر زیادہ روشن اور بڑا ہوگا جو برطانیہ کے وقت کے مطابق رات 11 بج کر 25 منٹ پر دکھائی دے گا۔

امریکہ میں سپر مون صبح سویرے 6 بج کر 25 منٹ پر نمودار ہوگا۔ جس وقت چاند زیادہ بڑا اور روشن نظر آئے گا اس وقت اس کا زمین سے فاصلہ 222,6111 میل ہوگا۔

اگرچہ ہر قمری ماہ کی 14 تاریخ کو چاند اپنی شکل مکمل کرلیتا ہے لیکن فلکیات سے وابستہ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ محض اتفاق ہے کہ چاند اپنے مدار میں گردش کرتا ہوا اس حصے میں داخل ہو جائے جو ہماری زمین سے نزدیک ہو اور اگر اس وقت چاند کی شکل مکمل ہو تو یہ زیادہ بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ انسانی آنکھ چاند کی روشنی سے زیادہ اس کے حجم کی تبدیلی کو محسوس کر سکتی ہے۔ اسی لیے لوگ اس کی تیز روشنی سے زیادہ اس کے حجم میں اضافے کو محسوس کر سکیں گے۔

ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ چاند جس وقت بیضوی مدار کے اس حصے میں ہوتا ہے جسے perigee یا 'حضیض قمر' کہتے ہیں تو یہ مدار کی انتہا کہلانے والے حصے apogee کے مقابلے میں زمین سے 50,000 کلو میٹر زیادہ قریب ہوتا ہے۔

تاہم ماہرینِ فلکیات کے مطابق 12 جولائی کی نسبت 10 اگست کو آسمان پر نمودار ہونے والا چاند کہیں زیادہ روشن اور بڑا ہو گا کیونکہ اس روز چاند کی زمین سے مسافت بارہ جولائی کی نسبت 863 میل مزید گھٹ جائے گی۔

علاوہ ازیں جو لوگ اس برس ان دونوں سپر مون کے دلکش نظاروں سے محروم رہ جائیں گے ان کے لیے 9 ستمبر کی رات برطانوی وقت کے مطابق ایک بج کر اڑتیس منٹ کا وقت موزوں ہوگا جب وہ تیسری بار آسمان پر جلوہ گر ہونے والے سپر مون کا دیدار کر سکیں گے۔

'یو ایس نیول آبزرویٹری' کے جیف چیسٹر نے 'ناسا سائنس' کو بتایا ہے کہ سپر مون کا معاملہ سورج گرہن یا علم ہیئت سے وابستہ سرگرمیوں سے مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔

سورج گرہن کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے جبکہ سپر مون ہر 13 ماہ اور 18 دن کے وقفے سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن اکثر موسم کی خرابی اور بادلوں کی وجہ سے انھیں دیکھا نہیں جا سکتا۔

ماہرینِ فلکیات کے اس برس کے کیلنڈر میں مزید دو اسی طرح کے سپر مون کی پیشن گوئی درج ہے جو کہ زمین سے دکھائی نہیں دیں گے۔

گزشتہ برس سپر مون کی خبریں اس وقت خبروں کی شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھیں جب جون میں نمودار ہونے والا چودہویں کا چاند چودہ فیصد بڑا اور تیس فیصد زیادہ روشن ظاہر ہوا تھا۔

ماہرین نے کہا ہے کہ چاند جتنا زیادہ زمین سے نزدیک ہوتا ہے اس کی کشش ثقل سمندر کی لہروں کو اپنی جانب کھینچتی ہے جس سے سمندر میں مدوجزر کی کیفیت یا تلاطم پیدا ہوتا ہے۔

دوسری جانب ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ چاند کی پوری شکل انسان کی نفسیاتی کیفیت پر بھی اثرا نداز ہوتی ہے۔

اکثر قدیم کہاوتوں میں چودہویں کے چاند کو انسان کی بے خوابی کے ساتھ بھی منسلک کیا جاتا ہے لیکن سائنس دانوں کی رائے اس بارے میں منقسم ہے۔

لیکن ایک انتہائی کنٹرولڈ تحقیق کا نتیجہ اس قدیم نظریے کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔

سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے محقق مائیکل اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ چاند کی پوری شکل انسان کی نیند کے قدرتی عمل یا حیاتیاتی گھڑی پراثر انداز ہوتی ہے جس کی وجہ سے پورے چاند کی راتوں میں ہم پر نیم بیداری کی کیفیت طاری رہتی ہے اور اس رات نیند کا دورانیہ عام دنوں کی نسبت 25 منٹ کم رہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG