رسائی کے لنکس

عرب نوجوان کے مبینہ اسرائیلی قاتل گرفتار


اسرائیلی عرب باشندے نوجوان کے قتل کے خلاف پیر کو شمالی شہر ایکرے میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

اسرائیلی عرب باشندے نوجوان کے قتل کے خلاف پیر کو شمالی شہر ایکرے میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ملزمان کا تعلق ایک شدت پسند یہودی گروہ سے ہے اور انہوں نے مذہبی جذبات سے مغلوب ہو کر عرب نوجوان کو قتل کیا تھا۔

اسرائیل کے حکام نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے قتل کیے جانے والے کم عمر عرب نوجوان کے قتل کے شبہ میں گرفتار چھ یہودیوں میں سے تین نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔

قتل کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے اسرائیلی اہلکاروں نے پیر کو ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ تینوں ملزمان نے دورانِ تفتیش واردات کی تفصیلات بھی بیان کردی ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی حکام نے 16 سالہ نوجوان محمد ابو خضیر کے قتل میں ملوث چھ مشتبہ ملزمان کی گرفتاری ظاہر کی تھی۔

حکام کے مطابق ملزمان کا تعلق ایک شدت پسند یہودی گروہ سے ہے اور انہوں نے مذہبی جذبات سے مغلوب ہو کر عرب نوجوان کو قتل کیا تھا۔

ابوخضیر کو بدھ کو علی الصباح یروشلم کے عرب اکثریتی علاقے کی ایک مسجد کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا جس کے کئی گھنٹوں بعد اس کی لاش شہر کے نواح میں جنگل سے برآمد ہوئی تھی۔

فلسطینی حکام نے کہا تھا کہ نوجوان کو زندہ جلایا گیا تھا اور اس کی لاش ناقابلِ شناخت حد تک جھلس گئی تھی۔

فلسطینی باشندوں اور مقتول کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ عرب نوجوان کو ان تین اسرائیلی لڑکوں کے بدلے میں قتل کیا گیا ہے جنہیں جون کے وسط میں مغربی کنارے سے اغوا کیا گیا تھا اور جولائی کے اوائل میں ان کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

عرب نوجوان کی ہلاکت کے بعد سے فلسطین اور اسرائیل کے عرب علاقوں میں صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے اور فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کے مابین روز کی بنیاد پر پرتشدد جھڑپیں ہورہی ہیں۔

واقعے کے بعد اسرائیل کے محاصرے کا شکار غزہ کی پٹی میں بھی صورتِ حال کشیدہ ہوگئی ہے اور علاقے پر اتوار اور پیر کو اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بمباری سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پیر کو اسرائیلی بمباری کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر درجنوں راکٹ برسائے لیکن ان سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق پیر کو سرِ شام صرف ایک گھنٹے کے دوران غزہ سے فائر کیے جانے والے 40 راکٹ اسرائیلی علاقوں میں گرے۔

اس سے قبل پیر کو اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے مقتول نوجوان کے والد کو ٹیلی فون کرکے قتل کی مذمت کی تھی اور واقعے کے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG