رسائی کے لنکس

تیان من اسکوائر کی یاد: تقریب میں ہزاروں کی شرکت


ہانگ کانگ

ہانگ کانگ

چوبیس برس قبل، چار جون ہی کو چینی فوجوں نے ٹینکوں کی مدد سے طلبا کی قیادت میں نکلنے والے احتجاجی مظاہرے کو بُری طرح سے کچل ڈالا تھا، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے

شدید بارش کے باوجود، منگل کے روز ہانگ کانگ میں ہزاروں افراد نے 24برس قبل بیجنگ کے تیان من اسکوائر میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی یاد میں ایک تقریب میں شرکت کی۔ تیان من اسکوائر پر جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنےوالوں کے خلاف پُرتشدد حکومتی کارروائی کی گئی تھی۔

سالگرہ کےموقعے پر منتظمیں نے ہانگ کانگ کے وکٹوریا پارک میں سالانہ تقریب کا اہتمام کیا، جِس میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ شریک ہوئے، جب کہ پولیس نے ہجوم کی تعداد کم کرکے 45000بتائی ہے۔

بارش تیز ہونے پر، پارک میں جمع چند افراد تقریب سے چلے گئے، جب کہ زیادہ تر چھتریاں تھام کر موقع ہی پر موجود رہےاور نعرے بلند کرتے رہے۔ وہ چین کے کمیونسٹ لیڈروں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ بیجنگ کے وسطی چوک پر 1989ء کی جمہوریت نواز احتجاجی تحریک کے جذبے کو سربلند رکھنے کے لیے اقدام کریں۔

اُسی سال چار جون کو ٹینکوں کی مدد سے چینی فوجوں نے طلبا کی قیادت میں نکلنے والے احتجاجی مظاہرے کو بُری طرح سے کچل ڈالا تھا، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

حکومت ِچین اِس واقعے کو ’انقلاب دشمنوں کی بغاوت‘ سے تعبیر کرتی ہے اور جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں کی طرف سے اِن ہلاکتوں کی یاد میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوششوں کو تشدد کرکے روک دیتی ہے۔

ہانگ کانگ برطانیہ کی ایک سابق کالونی ہے جو 1997ء میں چینی اقتدارِ اعلیٰ میں واپس جانے کے باوجود احتجاج کی آزادی کے حق سے دستبردار نہیں ہوئی۔

اس تازہ ترین یادگار تقریب کے شرکا نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ تیان من اسکوائر میں ہلاک ہونے والوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

خطاب کرنے والوں نے اس بات کا بھی عہد کیا کہ وہ بیجنگ کی طرف سے ہانگ کانگ کی ترقی کی رفتار کو سست روی سے چلانے کی کوششوں کے تحت شہر کے قائدین اور قانون ساز ادارے کو نظرانداز کرنے کی کارروائیوں کے خلاف لڑتے رہیں گے۔

بارش اور تیز آندھی کے باعث منتظمیں 50منٹ تک جاری رہنے والی اس ریلی کو مختصر کرنے پر مجبور ہوئے، یہی وجہ ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرہ زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا۔

ادھر بیجنگ میں، کسی ممکنہ احتجاجی مظاہرے کو روکنے کی غرض سے، چینی پولیس تیان من اسکوائر اور دیگر معروف مقامات پر پہرہ دیتی رہی۔ متعدد سرگرم چینی کارکنوں کو پہلے ہی حراست میں لیا گیا، گھر میں نظربند کیا گیا یا پھر سالگرہ کے نازک موقع پر حالات کا قریب سے مشاہدہ کیا جاتا رہا۔

ساتھ ہی، حکومت چین کی طرف سے میڈیا سے متعلق حکام نے سالگرہ کے موقع پر سماجی میڈیا پر نظر رکھنے کا کام انجام دیا۔ یہاں تک کہ چین کے معروف ’سینا وائن بو‘ سائٹ نے موم بتی کا ’آئی کون‘ ہٹا دیا، جو ’ڈجیٹل وِجل‘ کی ایک علامت ہے۔

اس کے برعکس، پابندی سے بچنے کے لیے، چین میں ویب استعمال کرنے والوں نے موم بتیوں کی تصاویر بڑھ چڑھ کر شائع کیں۔ دوسروں نے سیاہ رنگ کے کپڑے پہننے کی ہمت افزائی کی، جو تیان من میں ہلاک ہونے والوں کے غم میں شریک ہونے کی علامت ہے۔
XS
SM
MD
LG