رسائی کے لنکس

تبت کے ایک اور باشندے کی خود سوزی


Tibetan Self-Immolations, Through January 22, 2013

Tibetan Self-Immolations, Through January 22, 2013

جلاوطنوں سے متعلق ذرائع نے’ وائس آف امریکہ‘ کی تبتی سروس کو بتایا کہ 23سالہ دہقان زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا اور یہ کہ چین کے سکیورٹی حکام نے اُن کی لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے

تبت کا نوجوان جس نے اپنے آپ کو نذر آتش کردیا تھا فوت ہوگیا ہے، اور اِس طرح 2009ء جب سے اس خطے پر چین کے اقتدار کے خلاف احتجاج شروع ہوا ہے، اب تک ہلاکتوں کی تعداد 99ہوگئی ہے۔

کنچوک کیاب نے منگل کے روز صوبہٴ لبرنگ کے کانسو کے مشرقی علاقے میں واقع مندر کے سامنےاپنے آپ کو نذرِ آتش کیا۔

جلاوطنوں سے متعلق ذرائع نے’ وائس آف امریکہ‘ کی تبتی سروس کو بتایا کہ 23سالہ دہقان زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا اور یہ کہ چینی سکیورٹی حکام نے اُن کی لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

اُنھوں نے اپنے لواحقین میں بیوہ اور ایک 10ماہ کا بچہ چھوڑا ہے۔

کنچوک کیاب بورا کے علاقےسے تعلق رکھنے والے چوتھے تبتی ہیں جنھوں نے 2012ء سے اب تک اپنے آپ کو نذرِ آتش کیا ہے۔

منگل کی یہ خودسوزی اس سال کا تیسرا واقعہ ہے، ایسے میں جب تبتی خطے کے لوگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

اُن کا مطالبہ ہے کہ دلائی لامہ جلاوطنی ترک کرکے تبت لوٹیں، اور تبت کو آزادی دی جائے۔
XS
SM
MD
LG