رسائی کے لنکس

چین: تبت کے ایک اور باشندے کی خود سوزی


مظاہرین خودسوزی کرنے والوں کی تصاویر اٹھائے احتجاج کر رہے ہیں

مظاہرین خودسوزی کرنے والوں کی تصاویر اٹھائے احتجاج کر رہے ہیں

پولیس نے اس علاقے میں دھاوا بولا اور مقامی لوگوں کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا اور مظاہرے میں تبت سے تعلق رکھنے والوں کو گرفتار کر لیا۔

چین میں ایک شخص نے تبت کے لیے حکومت کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خودسوزی کر لی ہے۔ یہ شخص چار بچوں کا باپ تھا۔

تنزین گیاتسو نے بدھ کو غروب آفتارب کے بعد صوبہ سیچوان کے علاقے خانگسار میں ایک سرکاری عمارت کے سامنے خود کو نذر آتش کیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس حکام فوری طور پر وہاں پہنچے اس شخص کی "لاش" کو قبضے میں لے لیا۔

اس سے قبل بھی خودسوزی کے واقعات میں یہ ہوتا رہا ہے کہ حکام ایسے شخص کو قبضے میں لے لیتے تھے حالانکہ وہ ابھی زندہ ہوتا تھا۔ اگلی صبح حکام اس کے اہل خانہ کو بتاتے ہیں وہ مر گیا اور اس کی آخری رسومات رات ہی کو ادا کر دی گئیں۔

تبت سے تعلق رکھنے والوں کی نظر میں یہ اقدام ایک سزا کے مترادف ہے کیونکہ اس سے اہل خانہ سے اپنی روایات کے مطابق اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔

وائس آف امریکہ کے ذرائع کے مطابق تاوو نامی خطے میں اس واقعے سے چند دن قبل ہی تبت کے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اور انھوں نے اپنے روحانی پیشوا دلائی لاما کو ان کی سالگرہ سے قبل خراج تحسین پیش کرنے کے طور پر تبت سے متعلق سیاسی و تعلیمی آگاہی مہم شروع کی۔ لاما جولائی میں 80 برس کے ہونے جا رہے ہیں۔

چین کی پولیس نے اس علاقے میں دھاوا بولا اور مقامی لوگوں کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا اور مظاہرے میں تبت سے تعلق رکھنے والوں کو گرفتار کر لیا۔

گیاتسو کی بیوی اور چار بچوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ اب کہاں ہے۔

تاوو کے علاقے میں گیاتسو کی خودسوزی کے بعد یہاں گزشتہ سات سالوں میں اس نوعیت کے واقعات کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

تبت کے علاقوں میں 2009ء سے ایسے 140 واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں خودسوزی کی واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ حکام نے خودسوزی کرنے والے کے اہل خانہ پر جرمانے اور دیگر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔

XS
SM
MD
LG