رسائی کے لنکس

عراقی فورسز کے لیے رمادی پر قضبے کا موزوں وقت ہے: اتحادی ترجمان


وارنر نے کہا کہ عراقی فورسز نے رمادی کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور اب انھیں احتیاط کے ساتھ جنگ کرنا ہو گی۔

شدت پسند گروپ داعش کے خلاف امریکہ کی زیرقیادت اتحاد نے کہا ہے کہ عراقی فورسز کے لیے رمادی کا قبضہ داعش سے چھڑوانے کی "حتمی کوشش" کے لیے وقت موزوں ہے۔

اتحادی فورسز کے ترجمان کرنل اسٹیو وارنر نے بغداد سے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے صحافیوں کو بتایا کہ عراقی سکیورٹی فورسز انبار صوبے کے اس مرکزی شہر کے گرد اپنا گھیرا تنگ کر رہی ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران انھوں نے تقریباً 15 کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے۔

اس سے قبل یہ پیش قدمی شدید گرم موسم، ماہ رمضان اور پھر حج کی وجہ سے سست روی کا شکار رہی تھی۔

ان کے بقول اس پیش رفت میں امریکی اتحاد کی طرف سے کی گئی فضائی کارروائیوں سے بھی مدد ملی ہے جس نے گزشتہ دس روز کے دوران رمادی کے قریب 52 فضائی حملے کیے۔

"بڑھتی ہوئی فضائی قوت، انٹیلی جنس اور نگرانی کی مدد سے انھیں (عراقی فورسز) حالیہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ اب حتمی کوشش کا وقت آگیا ہے۔"

وارنر نے کہا کہ عراقی فورسز نے رمادی کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور اب انھیں احتیاط کے ساتھ جنگ کرنا ہوگی۔

امریکہ کا اندازہ ہے کہ رمادی میں داعش کے چھ سو سے ایک ہزار تک جنگجو موجود ہو سکتے ہیں لیکن وارنر کے بقول ان (شدت پسندوں) کے پاس کافی وقت تھا کہ وہ یہاں خندقیں کھودیں، بارودی سرنگیں بچھائیں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کریں۔

رواں سال داعش کی کارروائیوں میں رمادی پر ان کے قبضے کو سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے اور اسی تناظر میں امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر میں کہا تھا کہ اس سے عراقی فورسز کی طرف سے "جنگ لڑنے کے عزم میں کمی" کا اظہار ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG