رسائی کے لنکس

حصولِ آزادی کے لیے ریفرنڈم کا وقت آگیا :بارزانی


فائل

فائل

مسعود بارزانی نے کہا ہے کہ ’’کردستان کے عوام کی جانب سے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کی گھڑی آچکی ہے‘‘؛ اُنھوں نے کہا کہ ریفرینڈم کے نتیجے میں فوری طور پر عراق سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔ لیکن، اس سے ’’مناسب وقت اور حالات میں‘‘ ملک کی آزادی کے اعلان کی راہ ہموار ہوگی

کردستان کے علاقائی صدر مسعود بارزانی نے اعلان کیا ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ کردستان میں ریفرینڈم کرایا جائے، تاکہ عراق سے یکطرفہ آزادی کے اعلان کا فیصلہ کیا جاسکے۔

منگل کو جاری ہونےوالے ایک بیان میں، بارزانی نے کہا کہ ’’کردستان کے عوام کی جانب سے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کی گھڑی آچکی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ریفرینڈم کے نتیجے میں فوری طور پر عراق سے علیحدہ نہیں ہوں گے، لیکن اس سے ’’مناسب وقت اور حالات میں‘‘ ملک کی آزادی کے اعلان کے لیے راہ ہموار ہوگی۔

آزادی کے لیے اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم چیلنجوں سے خالی نہیں ہوگا۔

بارزانی کی جانب سے صدارت پر جاری قبضے کے حامی کرد سیاسی دھڑوں اور اُن کے دیگر مخالفین کی صفوں میں شدید تقسیم پائی جاتی ہے۔

کردستان کو شدید معاشی کساد بازاری سے واسطہ ہے، جب کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کئی ماہ سے ادا نہیں کی گئیں۔

معاشی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے کردوں نے ترکی تک تیل کی پائپ لائن تعمیر کی ہے اور بغداد کی منظوری کے بغیر تیل برآمد کرنا شروع کر دیا ہے، جس پر 2014ء میں عراق نے اس خطے کے لیے رقوم کی فراہمی بند کردی تھی۔

اسٹیفن کُک ’کونسل آن فارین رلیشنز‘ میں مشرق وسطیٰ کے مطالعے کے سینئر فیلو ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ معاشی دباؤ کے نتیجےمیں بارزانی ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے ہوں۔

کُک نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’تیل کی کم قیمتوں اور رقوم کے حصول کے لیے عراق سے مستقل ناکامی کے نتیجے میں کردستان کی علاقائی حکومت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔‘‘

بقول اُن کے، ’’ہوسکتا ہے کہ یہ ایک حربہ ہو جس کا مقصد عراق کی مرکزی حکومت سے رقوم بٹورنا ہو‘‘۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، 31 جنوری کو کردستان علاقائی حکومت کا ایک وفد حکومتِ عراق کے اہل کاروں سے ملا تھا جس دوران اصلاحات پر بات چیت ہوئی، جس کا مقصد معاشی بحران کا حل تلاش کرنا تھا، جس سے دونوں کو سابقہ ہے۔

XS
SM
MD
LG