رسائی کے لنکس

صدر اوباما نے کہا ہے کہ نیٹو لازمی طور پر اُن تمام عالمی چیلنجوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، خصوصی طور پر وہ جنھیں ہم جنوبی محاذ کا نام دیتے ہیں۔۔۔ جس ضمن میں، ہمیں داعش کے خلاف لڑائی میں رابطوں کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ عراق میں داعش کے انتہا پسندوں سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے، ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے اتحادی اس بات کو زیر غور لائیں کہ فوجی اثاثے کس طرح استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اِس سے چند ہی گھنٹے قبل، عراق نے اعلان کیا کہ رمادی کے صوبائی دارالحکومت کا قبضہ چھڑانے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا۔

دورے پر آئے ہوئے نیٹو کے سکریٹری جنرل، جینس اسٹولٹنبرگ کے ساتھ اجلاس کے اختتام پر گفتگو کرئے ہوئے، اوباما نے کہا کہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے گروپ کی جانب سے درپیش چیلنج، اور لیبیا کے تنازع نے اتحاد کو مجبور کیا ہے کہ اپنے مشن پر جنوب کے ساتھ ساتھ مشرق کی جانب بھی نگاہ لگائے رکھے۔

صدر اوباما نے کہا کہ نیٹو لازمی طور پر اُن تمام عالمی چیلنجوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، خصوصی طور پر وہ جنھیں ہم جنوبی محاذ کا نام دیتے ہیں۔۔۔ جس ضمن میں، ہمیں داعش کے خلاف لڑائی میں رابطوں کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

بقول اُن کے، اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ ہمیں اس بات پر پھر غور کرنا ہوگا آیا اِن چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہم اپنے اثاثوں کو مؤثر انداز سے استعمال کر رہے ہیں۔

اوباما کے یہ کلمات منگل کے روز اس وقت سامنے آئے جب امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کی جانب سے عراقی افواج پر تنقید سامنے آگئی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ رمادی میں داعش کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مقابلہ کرنے کی جگہ، عراقی افواج نے پسپائی کو ترجیح دی۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت کو کارٹر کے بیان پر حیرت ہوئی۔ اُنھوں نے پیر کے دِن ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایک واقعے کو مد نظر رکھ کر ہم ساری فوج کے کردار کے خلاف فیصلہ صادر نہیں کر سکتے۔

وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش ارنیسٹ نے منگل کے روز کارٹر کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت نے تسلیم کر لیا ہے کہ رمادی میں اختیار کی گئی پسپائی کمان اور منصوبہ بندی کے ٹھپ ہونے کا نتیجہ تھا۔

مزید برآں، ارنیسٹ نے کہا کہ رمادی میں عراقی افواج نے امریکہ اور اتحاد سے حاصل کی گئی تربیت سے استفادے کا مظاہرہ نہیں کیا۔

پینٹاگان کے ترجمان، کرنل اسٹیو وارن نے منگل کو اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے، اس بات کی جانب دھیان مبذول کرایا کہ عراقی افواج نے دشمن کا صفایا کیا، لیکن پھر بھی فوج نے پسپائی اختیار کرلی۔

XS
SM
MD
LG