رسائی کے لنکس

سنہ 2007 سے ان دہشت گرد حملوں میں تسلسل ریکارڈ کیا جا رہا ہے، یعنی ایک کے بعد ایک واقعہ۔ ان میں سے کچھ بڑے حملوں کا ذیل میں ایک مختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے

چار سدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر بدھ کو ہونے والا دہشت گرد حملہ بدقسمتی سے دہشت گردی کا کوئی پہلا خوفناک سانحہ نہیں، بلکہ سنہ 2007 سے ان دہشت گرد حملوں میں تسلسل ریکارڈ کیا جا رہا ہے، یعنی ایک کے بعد ایک واقعہ۔ ان میں سے کچھ بڑے حملوں کا ذیل میں ایک مختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے:

اٹھارہ اکتوبر 2007
اس روز پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو آٹھ سال بعد وطن واپس آئیں۔ ان کے استقبال کے لئے کراچی ائرپورٹ پر لوگوں کا جم غفیر تھا، اتنا زیادہ کہ ائیرپورٹ سے کلفٹن میں واقع ان کی رہائش گاہ تک کا ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے ہونے والا سفر کئی گھنٹوں تک پھیلتا چلا گیا۔ سینکڑوں لوگوں پر مشتمل ان کا قافلہ راستے میں تھا کہ اچانک ایک روز دار بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 139افراد ہلاک ہوگئے۔

ستائس دسمبر 2007
سال 2007ء کا ایک اور خوفناک دن جب راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کے قافلے کو ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں نے اپنا نشانہ بنایا۔ اس بار وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوگئیں۔

بیس دسمبر 2008
اس روز اسلام آباد میں واقع ایک پانچ ستارہ ہوٹل کو دہشت گردی کا نشانہ بننا پڑا، جبکہ اس واقعے میں بارود سے بھرے ٹرک کے ذریعے دھماکا کیا گیا۔ نتیجے میں 60 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دس جنوری 2013
کوئٹہ کے ’سنوکر کلب‘ میں بیک وقت دو خودکش دھماکے ہوئے اور 92 لوگ موت کا شکار بنے۔ زیادہ تر افراد کا تعلق شیعہ برادری سے تھا۔

سولہ فروری 2013
بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے ہزارہ ٹاوٴن کی ایک مارکیٹ میں زوردار دھماکا ہوا اور آناً فاناً 89 افراد لقمہٴ اجل بن گئے۔

بائیس ستمبر 2013
اس دن دہشت گردوں نے پشاور کے چرچ کو عین اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں درجنوں لوگ اتوار کے روز ہونے والی معمول کی دعائیہ تقریب میں مشغول تھے۔ پے در پے دو خود کش دھماکے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے 82 زندگیوں کے چراغ گل ہوگئے۔

دو نومبر 2014
پاکستان اور بھارت کے سرحدی علاقے ’واہگہ‘ میں دونوں ممالک کے پرچم اتارنے کی پروقار تقریب کے دوران ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 55 افراد ہلاک ہوگئے۔

سولہ دسمبر 2014
آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں نے اچانک حملہ کرکے 154 افراد کو ہلاک کر دیا ۔ مرنے والوں میں 135 معصوم بچے شامل تھے۔ اس واقعے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ آج بھی اس سانحے کی تلخ یادیں سب کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔

تیس جنوری 2015
اس روز شکارپور، سندھ کی ایک امام بارگاہ کو دہشت گردوں نے اپنا ہدف بنایا۔ خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا تو 62 دیگر افراد بھی موت کے منہ میں چلے گئے۔

تیرہ مئی 2015ء
کراچی کا صفورا گوٹھ جہاں دہشت گردوں نے اسماعیلی برادری کی ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا اور 43 افراد گولیوں کا نشانہ بنے۔

اٹھارہ ستمبر 2015ء
اس بار دہشت گردوں نے اپنے مذموم عزائم پورے کرنے کے لئے پشاور میں واقع پی اے ایف بیس کو چنا۔ فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں 29 عسکری جوانوں کو اپنی جانوں کی قربانی دینا پڑی۔

انتیس دسمبر 2015
مردان میں دھماکا ہوا۔ ذمے داری طالبان نے قبل کی۔ واقعے میں ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری موٹر سائیکل دھماکے سے اڑا دی جس سے 26 افراد ہلاک ہوگئے۔

بیس جنوری 2016
چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر چار دہشت گردوں کا حملہ۔ نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے۔ 16دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد کسی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنائے جانے کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔

XS
SM
MD
LG