رسائی کے لنکس

امریکی محکمہٴخارجہ نے اِس الزام کو مسترد کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت کو ’غیر مستحکم‘ کرنے کی کسی سازش میں ملوث ہے

جوابی کارروائی کے طور پر، امریکہ نے ونزویلا کے ایک اعلیٰ سفارت کار اور دو دیگر افراد کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس سے قبل تخریب کاری کی سازش کے الزام میں ونزویلا نے تین امریکی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا تھا۔

ونزویلا کی حکومت نے امریکی اقدام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ وینزویلا کے سفارت کار امریکی صدر براک اوباما کے مخالف گروپوں کے ساتھ ملاقات سے انکار کر رہے تھے۔

ونزویلا کے صدر نکولا مدورو نے الزام لگایا تھا کہ پیر کے روز کے ملک بدری کے اعلان کے بعد، امریکی شارج ڈی افیئرز، کیلی کیڈرلنگ اور دو دیگر امریکی عہدے دار اس جنوب امریکی ملک سے تعلق رکھنے والی سیاسی اپوزیشن کے ساتھ سازباز کر رہے تھے۔

سنہ 2010سے دونوں ملکوں کے دارالحکومتوں میں اِن ملکوں کے سفیر تعینات نہیں ہیں اور کیڈرلنگ وینزویلا میں امریکہ کی اعلیٰ سفارت کار ہیں۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے اِس الزام کو مسترد کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت کو ’غیر مستحکم‘ کرنے کی کسی سازش میں ملوث ہے۔

وینزویلا میں امریکی سفارت خانے اور خود کیڈرلنگ نے بھی کہا ہے کہ تینوں سفارت کاروں کا بولیوار ریاست کا دورہ عام سفارت کاری کا ایک حصہ تھا۔

محکمہٴخارجہ نے کہا ہے کہ یہ بات ’افسوس ناک‘ ہے کہ وینزویلا کی حکومت نے امریکی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جنھیں محکمے نے، ’بے بنیاد الزامات‘ قرار دیا ہے۔

محکمہٴخارجہ نے اس اقدام کو دونوں ملکوں کے مفادات کے لیے ’نقصان دہ‘ قرار دیا ہے۔

اِس تنازع کے باعث، وینزویلا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی امریکی کوششوں کو واضح طور پر دھچکا لگا ہے، جو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اور طویل عرصے تک امریکہ مخالف، ہیوگو شاویز کے بعد عمل میں لائی جا رہی تھیں۔

دونوں ملکوں کے مابین کشیدہ تعلقات کے باوجود، امریکہ وینزویلا کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
XS
SM
MD
LG