رسائی کے لنکس

’بل مورل‘ نامی ایک بحری جہاز تین ہفتے قبل، پہلے ٹائی ٹینک کے راستے پرانگلینڈ سے روانہ ہوا۔ اِس بحری جہاز میں سوار متعدد مسافر، ٹائی ٹینک کے حادثے میں ڈوبنے والوں کے رشتہ دار ہیں

اتوار کو ٹائی ٹینک کو ڈوبے ایک صدی بیت گئی، جس کی یاد دنیا بھر میں منائی گئی۔

یہ دنیا کا سب سے بڑا، بے انتہا تفریحی سہولیات سے آراستہ اور بظاہر نہ ڈوبنے والا بحری جہاز تصور کیا جاتا تھا، جو ایک صدی قبل ساؤتھ ہمپٹن کے برطانوی شہر سے نیو یارک کے لیےاپنے افتتاحی سفر پر روانہ ہوا اور نارتھ ایٹلانٹک پہنچنے پر ایک گلیشئر سے جا ٹکرایا اور تین گھنٹوں کے اندر اندرڈوب چکا تھا۔ اِس واقعے میں 1500سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اِس بدقسمت بحری جہازکے واقع کی یاد اب بھی بیشماردلوں میں باقی ہے۔ صد سالہ برسی کے قریب آتے ہی، اس کے ذرے پرزوں کے نمونوں کی نمائش کا سلسلہ، ذکراذکار، ڈرامے اور دستاویزی فلمیں بنائی گئی ہیں، اور نئی کتابیں شائع کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، تھری ڈی پر اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والی فلم ’ٹائی ٹینک‘ کی نمائش کی گئی ہے، جس میں لیونارڈو دی کیپریو اور کیٹ وِنسلیٹ نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

ایک یادگاری بحری جہاز تین ہفتے قبل ٹائی ٹینک کے اصل روٹ پرانگلینڈ سے روانہ ہوا۔ ’بل مورل‘ نامی اِس بحری جہاز میں سوار متعدد مسافر اصل ٹائی ٹینک کے حادثے میں ڈوبنے والوں کے رشتہ دار ہیں۔ اتوارکو Balmoral اس مقام پر پہنچا جہاں Titanic ڈوبا تھا۔ اتوار کے روز اُسی مقام پر’بل مورل‘جہاز پر ہونے والی ایک دعائیہ سروس میں مسافروں نے شرکت کی۔

رچرڈ ڈیون پورٹ ہائینز، جنھوں نے بد نصیب ٹائی ٹینک کےمسافروں کے بارے میں کتابVoyagers of the Titanic لکھی ہے، اُن کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ اب بھی لوگوں کے لیے کشش کا باعث ہے ،کیونکہ بظاہر ناکام نہ ہونے والی ٹیکنالوجی کے خطرات کےبارے میں اب بھی لوگوں کے دلوں میں خدشات باقی ہیں۔

سائنس داں کہتے ہیں کہ سب سے بڑے اس بحری جہاز میں استعمال ہونے والی دھات کو جوڑنے والی کیل کی نوک کو چپٹا کرنے والی ٹیکنالوجی بہت کمزور نوعیت کی تھی، جو آئس برگ کے زوردارجھٹکوں کو برداشت نہ کرسکی اور ٹائی ٹینک کے پیٹےاور چولوں کو اکھاڑ کر رکھ دیا۔

XS
SM
MD
LG