رسائی کے لنکس

اسی طرح عالم اسلام کے ممالک میں قدرتی آفات پر ردعمل کے طور پر انسانی ہمدردی کے کاموں کے حوالے سے ملائیشیا نے 71 ویں پوزیشن سے رواں برس ساتواں درجہ حاصل کر لیا ہے۔

عطیات کے حوالے سے منعقدہ ایک عالمی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی ہمدردی کے کاموں پر سب سے زیادہ عطیہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں امریکہ سب سے آگے ہے جبکہ امریکی قوم کو دنیا کی فیاض قوم کا درجہ دیا گیا ہے۔

گلوبل سروے کے اندازوں کے مطابق مغربی ممالک میں حکومتوں اور افراد میں عطیات دینے کا رجحان زیادہ پایا گیا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال 6 فیصد عطیات میں اضافے کے ساتھ سرفہرست ہے اس کے علاوہ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں گزشتہ ماہ تقریباً 203 ملین افراد نے اجنبیوں کی مدد کی ہے۔

برطانوی فلاحی تنظیم 'چیریٹیز ایڈ فاونڈیشن' کی رپورٹ کا حیران کن نتیجہ یہ ہے کہ میانمار نے دولت مند امریکی قوم کے ساتھ مشترکہ طور پر اس فہرست میں پہلی جگہ حاصل کی ہے جہاں لوگوں کی جانب سے 91 فیصد عطیات کی رقم خیراتی تنظیموں کو دی جاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذہبی عقائد کی بنیاد پر عطیات کے حوالے سے میانمار فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں دیوی دیوتاؤں کی رضا حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں۔

135ممالک پر منعقدہ 'دی ورلڈ گیونگ انڈیکس 2014' نامی گلوبل سروے کی عالمی درجہ بندی کے اعتبار سے ٹاپ 20 ممالک میں سے صرف 5 ملک مضبوط معیشتوں کے فورم، جی ٹوئنٹی کے رکن ہیں جبکہ کم دولت مند ملکوں میں سے سری لنکا عطیہ دینے والے ملکوں کی فہرست میں نویں درجے پر ہے۔

افریقی ممالک میں کینیا سب سے زیادہ عطیات کرنے والا ملک ہے جبکہ عالمی درجہ بندی کے اعتبار سے فہرست میں 15 ویں نمبر پر ہے اس کے علاوہ جنوبی افریقہ فہرست میں 34 وین نمبر پر ہے۔

اسی طرح عالم اسلام کے ممالک میں قدرتی آفات پر ردعمل کے طور پر انسانی ہمدردی کے کاموں کے حوالے سے ملائیشیا نے 71 ویں پوزیشن سے رواں برس ساتواں درجہ حاصل کر لیا ہے جس نے ہمسایہ ملک فلپائن میں تباہ کن طوفان کے بعد بڑھ چڑھ کر انسانی بنیادوں پر امداد کی ہے۔

بھارت اور چین دنیا کی بڑی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں تاہم ان ممالک کے صاحب ثروت افراد میں عطیہ کا رویہ زیادہ نہیں پایا گیا ہے بھارت اور چین فہرست میں بالترتیب 69 اور 128 نمبر پر شامل کیے گئے ہیں۔

فہرست کے مطابق پاکستان مجموعی طور پر 32 اسکور کے ساتھ 61 نمبر پر سب سے زیادہ عطیات کرنے والا ملک ہے۔

علاوہ ازیں فہرست میں انڈونیشیا 13 سعودی عرب 47 افغانستان 78 بنگلہ دیش 72 ایران 19 مصر 126 اور ترکی 128 نمبر پر درجہ بندی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں عطیات کے حوالے سے لوگوں کے رویوں کی وضاحت کے لیے تین اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے ماہرین نے دیکھا کہ گزشتہ برس کے ایک ماہ میں ان ممالک کی حکومتوں اور افراد نے فلاحی تنظیموں کو کتنا عطیہ کیا یا پھر ان ممالک کے لوگوں میں صدقاتی تنظیموں میں رضاکار کے طور پر خدمات دینے اور اجنبی شخص کے ساتھ ہمدردی کرنے کا رویہ کتنا عام ہے۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ عالمی سطح پر اجنبیوں کی مدد اور رضاکارانہ خدمات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صدقات کی رقم میں 0.6 فیصد معمولی کمی ظاہر ہوئی ہے۔

دنیا بھر سے 3.2 ارب لوگوں نے ایک ماہ کے دوران اجنبیوں کی مدد کرنے کی رپورٹ کی اور 1.4 ارب کی رقم مختلف اقسام کے فلاحی کاموں پر عطیہ کی گئی۔

عالمی نقطہ نظر کے حوالے سے مجموعی طور پر عورتوں اور مردوں دونوں کی طرف سے عطیات میں اضافہ ہوا ہے تاہم 49.7 فیصد مرد اور 46.5 فیصد عورتوں نے اجنبیوں کی مدد کی۔

دریں اثناء رقم عطیہ کرنے میں عورتیں مردوں سے آگے ہیں ایک ماہ میں 43 فیصد عورتوں اور 36 فیصد مردوں نے رقم عطیہ کی۔

دنیا کے 20 سرفہرست ممالک کی درجہ بندی ذیل میں ہے ۔

امریکہ اور میانمار مجموعی طور پر 64 کے اسکور کے ساتھ نمبر ایک کی پوزیشن شیئر کی ہے، کینیڈا عطیہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں 3 نمبر پر ہے جس کے بعد آئرلینڈ اور نیوزی لینڈ کی بالترتیب چوتھی اور پانچویں پوزیشن پر درجہ بندی کی گئی ہے۔

عطیات دینے والے ممالک کی درجہ بندی کی فہرست میں آسٹریلیا 6 ،ملائیشیا اور برطانیہ7 ، سری لنکا9 بھوٹان 11 نیدر لینڈ 12 انڈونیشیا 13 آئس لینڈ 14 کینیا 15، مالٹا 16، آسٹریا 17، ڈنمارک18 ، ایران 19 اور بیسویں درجے پر جمیکا شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG