رسائی کے لنکس

مصر کے وزیر آثار قدیمہ ممدوح الدمتی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مقبرہ فرعون کی رانی کا ہے جن کا نام 'خنتکاوس سوئم' ہے

آثار قدیمہ کے ماہرین نے مصر میں لگ بھگ 4،000 سال پرانی قبر دریافت کی ہے۔ چیک آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق، یہ قبر فرعون کے شاہی گھرانے کی ایک ایسی رانی کی ہے جو مقبرے کی دریافت سے پہلے تاریخ میں نامعلوم تھیں۔

مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقبرہ مصر کی دارالحکومت قاہرہ کے جنوب مغرب میں 32 کلو میٹر کی دوری پر واقع قدیم ریاست 'ابوسر' کے سب سے بڑے قبرستان میں دریافت ہوا ہے جو فراعین کی پانچویں نسل کے گھرانوں کے ساتھ منسوب ہے۔

ابو سر قدیم مصر کے دارالحکومت میمیفس کا پرانا شاہی قبرستان تھا۔ یہاں فرعون نفرفری کا اہرام ہے، جس نے4,500 قبل مسیح پہلے مصر میں حکومت کی تھی۔

یہ دریافت شدہ قبر فرعون نفرفری کے مقبرے کے احاطے میں ملی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ فرعون نفرفری کی بیوی کا مقبرہ ہو سکتا ہے جسے رینفرف بھی کہا جاتا تھا۔

ایجنسی فرانس پریس کے مطابق، مصر کے وزیر آثار قدیمہ ممدوح الدمتی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مقبرہ فرعون کی رانی کا ہے جن کا نام 'خنتکاوس سوئم' ہے۔ رانی کا نام اور عہدہ قبر کی اندرونی دیوار پر کنندہ لکھائی سے معلوم ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ دو رانیاں بھی اسی نام کی دریافت کی جا چکی ہیں اسی لیے اس رانی کو خنتکاوس سوئم کے نام سے ظاہر ہوئی ہیں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ رانی کا نام مقبرہ تعمیر کرنے والے ہنرمندوں نے دیوار پر کنندہ کیا تھا۔

الدمتی کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہم نے اس رانی کا نام دریافت کیا ہے، جواپنے مقبرے کی دریافت سے پہلے تک ہماری نامعلوم تھیں۔

الدمتی نے مزید کہا کہ اس مقبرے کی دریافت سے ہمیں پانچویں نسل کے شاہی گھرانوں کے کچھ پوشیدہ پہلووں سے آگاہی حاصل ہوئی ہےجس نے فراعین کی چوتھی نسل کے ساتھ ملکر پہلے اہرام مصر کی تعمیر کا مشاہدہ کیا تھا۔

مصری نودارات کی وزارت کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ قبر مورخہ 2994.2345 قبل مسیح میں فرعون کے پانچویں نسل کے گھرانوں کے درمیان کی معلوم ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبرے کی تلاش گذشتہ چند سالوں کی دریافت میں سے اہم ہے جو ایک بار پھر تصدیق کرتی ہے کہ ابو سر کا قبرستان قدیم مصری تاریخ کے اہم ادوار کو ازسرنو جاننے کے حوالے سے بڑی تعداد میں منفرد ذرائع فراہم کرتا ہے۔

مصر میں آثار قدیمہ کی چیک ماہرین میر سلاؤبارٹا کی قیادت میں 1976 سے ابو سر میں کام کر رہی ہے۔ ماہرین کو مقبرے کی دریافت کے ساتھ 30 برتن ملے ہیں جس میں سے 24چونے کے پتھراور 6 تانبے کے برتن ہیں۔

XS
SM
MD
LG