رسائی کے لنکس

ری پبلکن رہنما کا توہین کے بجائے خیالات کی جنگ پر زور


پال رائن کانگریس میں زیر تربیت افراد سے خطاب کر رہے ییں۔

پال رائن کانگریس میں زیر تربیت افراد سے خطاب کر رہے ییں۔

پال رائن نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی واشنگٹن میں جاری جانبدارانہ لڑائیوں اور صدارتی دوڑ کا براہ راست ذکر کیا، مگر مبصرین کے خیال میں یہ واضح ہے کہ ان کی اس بات کا ہدف کون تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن نے امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ تند و تیز اور سخت جملوں کی بجائے قائل کرنے والا اور زیادہ باوقار طرز تکلم اپنائیں۔ یہ بات انہوں نے ایسے وقت کہی ہے جب ریپبلکن صدارتی مقابلے میں بسا اوقات "بناوٹی اور بیہودہ" زبان استعمال کی جا رہی اور پارٹی کا اتحاد شدید متاثر ہو رہا ہے۔

پال رائن نے ایوان نمائندگان کے کمیٹی روم میں کانگریس کے لیے کام کرنے والے درجنوں زیر تربیت افراد یعنی انٹرنز کے سامنے کہا کہ ’’ہماری سیاسی گفتگو جو ہم ٹیلی وژن پر دیکھتے ہیں اور جو ہم ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں پہلے اتنی زیادہ خراب نہیں تھی۔ اور اسے اس طرح کا نہیں ہونا چاہیئے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’سیاست خیالات کی جنگ ہے، نہ کہ توہین کی جنگ ہو سکتی ہے۔ آپ کی پریشانیوں کے ساتھ کھیلنے کی بجائے ہم آپ کی امنگوں پر بات کر سکتے ہیں۔‘‘

ریپبلکن پارٹی میں پال رائن سب سے اعلیٰ منتخت عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی واشنگٹن میں جاری جانبدارانہ لڑائیوں اور صدارتی دوڑ کا براہ راست ذکر کیا، مگر مبصرین کے خیال میں یہ واضح ہے کہ ان کی اس بات کا ہدف کون تھا۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیاسی تجزیہ کار جان ہڈک نے کہا کہ ’’ان کے بیان کا واضح طور پر اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ جو ڈونلڈ ٹرمپ بیان بازی میں، سیاسی طور پر اور پارٹی کے ساتھ کر رہے ہیں وہ اس سے نالاں ہیں۔‘‘

’’یہ بیان (کانگریس میں) عام ریپبلکنز اور ملک بھر میں ریپبلکنز کے لیے بھی تھا۔‘‘

کاروباری شخصیت اور ریپبلکن صدارتی دوڑ کے صف اول کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ اور اعمال سے ریپبلکن پارٹی کے بڑے مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ پارٹی کی شبیہہ خراب ہونے کے بارے میں کھلے عام شکایت کریں۔

دوڑ میں شامل ہونے کے بعد سے ٹرمپ میکسیکن تارکین وطن کو "جنسی زیادتی" کرنے والے کہہ رہے ہیں، انہوں نے انسداد دہشت کے لیے تشدد کی حمایت کی ہے، مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی ہے اور ایک مباحثے میں ایک خاتون میزبان کے بارے میں تحقیر آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔

وہ اپنے حریفوں اور ناقدین کے لیے بھی تحقیر آمیز زبان استعمال کرتے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ کے جلسوں میں کچھ افراد نے مظاہرہ کیا جنہیں ان کے حامیوں نے مکے مارے اور انہیں دھکے دیے۔

پال رائن وہ پہلے ریپبلکن نہیں جنہوں نے ایسی بات کی ہے۔ اسی ماہ 2012 کے صدارتی انتخاب میں پارٹی کے نامزد امیدوار مٹ رومنی نے ایک تقریر میں ٹرمپ کی ظاہری شخصیت، ان کے کاروباری ریکارڈ اور خیالات پر سخت ملامت کی۔

تاہم بدھ کو پال رائن نے عمومی طور پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مختلف خیالات رکھنے والے لوگ غدار نہیں۔ وہ ہمارے دشمن نہیں۔ وہ ہمارے ہمسائے ہیں، ہمارے ساتھ کام کرنے والے ساتھی ہیں، ہمارے ہم وطن ہیں۔‘‘

کچھ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر کسی امیدوار پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا تو ریپبلکن جماعت پال رائن کو صدارتی دوڑ کے لیے نامزد کر سکتی ہے۔ تاہم پال رائن نے اس امکان کو نظر انداز کیا۔

XS
SM
MD
LG