رسائی کے لنکس

تیونس: حکومت مخالف رہنما کے قتل کے بعد کشیدگی


مظاہرین مقتول تیونسی رہنما کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہیں

مظاہرین مقتول تیونسی رہنما کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہیں

'النہضہ' کے چند ناقدین اور مقتول سیاسی رہنما کے اہلِ خانہ کے بعض افراد نے حکمران جماعت کو اس قتل کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

تیونس میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک اہم رہنما کے قتل کے بعد ملک کے مختلف حصو ں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

حزبِ اختلاف کی جماعت 'پاپولر فرنٹ' کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رہنما شکری بلعید کو بدھ کی صبح دارالحکومت تیونس میں واقع ان کے گھر کے باہر نامعلوم افراد نے گولی ماردی تھی۔

شکری کے قتل کی خبر پھیلنے کے بعد تیونس کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے سیاسی رہنما کے قتل کے خلاف احتجاج کیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین نے دارالحکومت کے مرکز میں واقع 'حبیب بورقیبہ چوک' پر جمع ہو کر حکومت کے خلاف بھی سخت نعرے بازی کی۔

تیونس کے صدر مصطفیٰ مرزوقی نے شکری بلعید کے "بہیمانہ قتل" کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ایک پرانے دوست سے محروم ہوگئے ہیں۔

بدھ کو فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے تیونس کے صدر کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کے عوام "انقلاب دشمنوں" کے اس پیغام کو مسترد کردیں گے جو انہوں نے ملک کے ایک اہم سیاست دان کے قتل کے ذریعے دینے کی کوشش کی ہے۔

تیونس کی اسلام پسند حکمران جماعت 'النہضہ' سمیت مختلف جماعتوں کے رہنمائوں نے بھی شکری بلعید کے قتل کی مذمت کی ہے۔

'النہضہ' کے سربراہ راشد الغنوشی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ قاتل اس واردات کے ذریعے تیونس میں "خون کی ندیاں بہتی" دیکھنا چاہتے تھے۔

مقتول رہنما شکری بلعید

مقتول رہنما شکری بلعید

تاہم 'النہضہ' کے چند ناقدین اور مقتول سیاسی رہنما کے اہلِ خانہ کے بعض افراد نے حکمران جماعت کو اس قتل کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

خیال رہے کہ بلعید خود بھی ملک میں انتہا پسندوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکامی اور حزبِ اختلاف کو ڈرانے دھمکانے پر 'النہضہ' کی حکومت پر کڑی تنقید کیا کرتے تھے۔

عرب دنیا میں دو برس قبل شروع ہونے والی بیداری کی تحریک نے تیونس سے جنم لیا تھا جہاں عوام نے احتجاجی تحریک کے ذریعے برسوں سے برسرِ اقتدار آمر زین العابدین بن علی کا تختہ الٹ دیا تھا۔

تیونس کا عوامی انقلاب اس لحاظ سے مثالی قرار پایا تھا کہ اس میں دیگر عرب ممالک، خصوصاً لیبیا اور شام کی طرح خون ریزی نہیں ہوئی تھی اور پرامن جدوجہد کے نتیجے میں عوامی اقتدار قائم ہوگیا تھا۔

تاہم انقلاب کے بعد ہونے والے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کی کامیابی کے بعد سے ملک میں پرتشدد واقعات اور سیاسی کشمکش میں اضافہ ہوا ہے جس نے ملک کی معاشی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
XS
SM
MD
LG