رسائی کے لنکس

حلب میں کارروائی 'انسانی تباہی' کا باعث بن رہی ہے: امریکی عہدیدار


میک گرک کا کہنا تھا کہ داعش نوجوانوں کو خلافت کے پھیلاؤ اور خوشحالی کے جھوٹے تصور کے ساتھ بھرتی کر رہا ہے جب کہ درحقیقت ان کا علاقہ کم ہو رہا ہے

داعش کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کے معاون امریکہ کے اعلٰی ترین سفارتکار بریٹ میک گرک نے کہا ہے کہ شام کے صوبے حلب پر ہونے والی یلغار پناہ گزینوں کے ایک "ناقابل قبول" بہاؤ اور "انسانی تباہی" کا باعث بن رہی ہے۔

حال ہی میں کوبانی اور دیگر علاقوں کو دورہ کر کے آنے والے سفارتکار نے ایوان نمائندگان کے کمیٹی برائے امور خارجہ کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

متعدد قانون سازوں نے حلب کے محاصرے کے لیے روس کی فضائی مہم کی مدد سے شام کے بشارالاسد کی فورسز کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

قانون ساز ایلیوٹ اینجل نے میک گرک سے دریافت کیا کہ آیا اوباما انتظامیہ شام کے شہریوں کو قتل و غارت گری سے بچانے کے لیے "نو فلائی زون" نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے یا نہیں۔

میک گرک نے اس پر اوباما انتظامیہ کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فی الوقت "نو فلائی زون، قابل عمل آپشن نہیں"۔

انھوں نے قانون سازوں کو بتایا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے لیے راہ ہموار کرنا اور شام میں جنگ بندی تک پہنچنا اتحادیوں کے رواں ہفتے میونخ میں ہونے والے مذکرات میں اولین ترجیح ہو گا۔

میک گرک کا کہنا تھا کہ دمشق میں تبدیلی کے لیے ایک سیاسی عمل ضروری ہے داعش کو اس وقت تک شکست نہیں دی جا سکتی جب تک اسد اقتدار میں ہیں کیونکہ ان کے بقول (صدر اسد کے) مظالم دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔

ڈیموکریٹ ایلیوٹ اینجل کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بعض امریکی اتحادیوں نے انھیں بتایا کہ ان کا یہ خیال ہے کہ امریکہ شام کے معاملے میں پوری طرح شامل ہونے سے ہچکچاہٹ سے کام لے رہا ہے اور اسی وجہ سے روس یہاں پہنچ گیا۔

کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن ایڈ روئس نے صدر براک اوباما کی پالیسی کو قدرے زیادہ شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

"جب بات شام کی آتی ہے تو افسوسناک امر یہ ہے کہ امریکہ کا اس پر ردعمل شرمناک ہے۔ قتل و غارت گری جاری ہے۔ (معتدل شامی باغیوں کو) تربیت اور مسلح کرنا کامیاب نہیں ہوا۔"

بریٹ میک گرک

بریٹ میک گرک

نمائندہ خصوصی میک گرک نے اوباما انتظامیہ کی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اتحاد نے داعش کے خلاف دس ہزار فضائی حملے کیے اور دہشت گرد نیٹ ورک کا "دم گھوٹنے" کے لیے ہر ممکن اقدام کیا گیا جن میں تیل کی ترسیل اور رقوم کے ذخیرے کو نشانہ بنانا بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش عراق اور شام میں علاقے کھو رہا ہے اور اس کے بہت سے جنگجو لڑائی میں مارے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول اسی بنا پر بعض شدت پسند لیبیا کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن برائن ہگنس نے کہا کہ لیبیا میں داعش کے جنگجوؤں کی موجودگی خاص طور پر پریشان کن ہے کیونکہ وہاں اس قدر عدم استحکام ہے کہ جسے یہ گروپ افریقہ میں اسحتصال کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

میک گرک کا کہنا تھا کہ داعش نوجوانوں کو خلافت کے پھیلاؤ اور خوشحالی کے جھوٹے تصور کے ساتھ بھرتی کر رہا ہے جب کہ درحقیقت ان کا علاقہ کم ہو رہا ہے اور صورتحال ایسی نہیں رہی جیسا کہ وہ بیان کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG