رسائی کے لنکس

افغانستان میں قیدیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ: اقوام متحدہ


فائل فوٹو

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں زیر حراست افراد کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تنازعات سے متعلق الزامات پر زیر حراست قیدیوں سے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے انٹرویو کیے، جس میں اُنھوں نے افغان پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں یا فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد یا ناروا سلوک کی شکایت کی۔

یہ رپورٹ پیر کو جاری کی گئی۔

افغان حکومت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بعض اہلکاروں کی طرف سے ایسے مسائل ہو سکتے ہیں تاہم قیدیوں پر تشدد حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’افغان حکومت تشدد اور ناروا سلوک کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے اسسٹینس مشن برائے افغانستان (یواین اے ایم اے) اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی یہ رپورٹ تنازعات سے متعلق واقعات میں گرفتار کیے 469 قیدیوں سے انٹرویو کی بنیاد پر تیار کی گئی۔

یہ انٹرویو یکم جنوری 2015 سے دسمبر 2016 کے دوران نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی سی) اور افغان نیشنل پولیس سمیت افغان فورسز کے 62 حراستی مراکز میں موجود قیدیوں سے کیے گئے۔

ایک بیان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید راد الحسین نے کہا کہ ’’تشدد سے سکیورٹی میں اضافہ نہیں کرتا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے تدارک کے لیے حراستی مراکز میں نگرانی کا منظم نظام ہونا چاہیئے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی جب افغان عہدیدار رواں ہفتے جنیوا میں تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی ٹاڈایمچی یاموتو نے کہا کہ ’’تنازعات سے معاملات کے بارے میں زیر حراست قیدیوں کے ساتھ مسلسل تشدد اور برا سلوک روا رکھا جانا باعث تشویش ہے۔‘‘

جن قیدیوں سے انٹرویو کیے گئے اُن میں سے 45 فیصد پولیس کے زیر حراست ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 85 قیدی بچوں کے بھی انٹرویو کیے گئے، جن میں سے 38نے انٹرویو میں تشدد سے متعلق قابل عمل شواہد دیے۔

رپورٹ میں افغان حکومت کی طرف سے تشدد کے خاتمے کے قومی لائحہ عمل کے تحت کی جانی والی کوششوں کو بھی سراہا گیا۔

رپورٹ میں تشدد کے ایسے واقعات کو فوری طور پر روکنے اور اس نوعیت کے واقعات کی تحقیقات کر کے ان میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG