رسائی کے لنکس

تشدد اور جبر کی روکتھام : قصور واروں کو قرارِ واقعی سزا دی جائے

  • بہجت گیلانی

فائل فوٹو

فائل فوٹو

دلیل کو مانا جائے، جمہوریت کو چلنے دیا جائے، اظہارِ آزادی کی قدر کی جائے اور سماجی انصاف فراہم کیا جائے تو عوام الناس میں قوت برداشت یقینی طور پر بڑھے گی: تجزیہ کار

سابق وفاقی وزیر برائے قانون اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سابق سربراہ، اقبال حیدر نے کہا ہے کہ مختلف سماجی امور پر بین الاقوامی دن منایا جانا ایک خوش آئند بات ہے، لیکن ساتھ ہی ضرورت اِس بات کی ہے کہ یہ دِن مناتے وقت وہ اعداد و شمار بیان کیے جائیں جِن کا حصول گذشتہ ایک سال کے اندر ممکن ہوا، اوریہ کہ آئندہ ایک سال کا لائحہ عمل سب کےسامنے رکھا جائے۔

اُنھوں نے یہ بات اتوار کوتشددکی روکتھام اور اذیت کے شکار لوگوں کی مدد کے بین الاقوامی دِن کے موقعے پر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہی۔

اُن سے پوچھاگیا تھا کہ ایسے دو عوامل پر روشنی ڈالیں جو تشدد اور جبر کی طرف لے جاتے ہیں۔ اقبال حیدر کے بقول روایتی عوامل میں سب سے اول مایوسی کا معاملہ ہے، لیکن اب یہ معاملہ لالچ و حرص میں بدل چکا ہے۔ اُن کےالفاظ میں، اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ سوچ ہے کہ میں بندوق کی نالی کے زور پر میں دوسروں کو اپنا غلام بنا یا جا سکتا ہے، پھر یہ کہ ایسےقصوروار عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

اقبال حیدر نےمطالبہ کیا کہ اِس طرح کے اعداد وشمار بھی سامنے آنے چاہئیں کہ، اُن کے بقول، سال کے اندر کتنے دہشت گردوں کے سرپرستوں، حکمرانوں اور افسروں کو’ قرارِ واقعی‘ سزا دلوائی گئی۔

اِس سوال پرکہ معاشرے میں رواداری ، صبرو ضبط کو کس طرح فروغ دیا جائے، اقبال حیدر نے کہا کہ جب حکومت طے کرلے کہ ہم نے کسی بھی قیمت پر تشدد اور اذیت کو برداشت نہیں کرنا’ تو کسی کی مجال نہیں‘ کہ کسی قسم کا کوئی اوچھااور قابلِ مذمت عمل کر پائے۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی، جسٹس(ر) فخر النسا کھوکھر، کے مطابق قانون کا مؤثر اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے تشدد کے واقعات پر مؤثر طور پر قابو نہیں پایا جاسکا۔

ممتاز نفسیاتسداں، ڈاکٹر حارث برکی کے نزدیک معاشرے میں جارحانہ اور تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدام ضروری ہیں۔ اُن کے الفاظ میں دلیل کو مانا جائے، جمہوریت کو چلنے دیا جائے، اظہارِ آزادی کی قدر کی جائے اور سماجی انصاف فراہم کیا جائے تو عوام الناس میں قوت برداشت یقینی طور پر بڑھے گی۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG