رسائی کے لنکس

'مصیبت کا وقت جھیلنا ہی پڑے گا'


اس سال بھارتی کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں چار سے پانچ لاکھ کمی آئی ہے۔

بھارت کے زیر ِانتظام جموں و کشمیر میں رواں برس جولائی میں شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر کی ہلاکت کے بعد امن و امان کی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے۔ اس صورت حال کا اثر ڈل جھیل میں سیاحوں کے لیے شکارہ کہلانے والی رنگین کشتیوں، کے کاروبار پر بھی پڑا ہے۔

عبدالرزاق ڈل جھیل میں شکارہ چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پچھلے چھ ماہ ان کے لیے بہت نقصان دہ رہے اور جب تک پاکستان اور بھارت آپس میں اس حوالے سے مذاکرات نہیں کرتے تب تک انہیں مصیبت کا یہ وقت جھیلنا ہی پڑے گا۔

محمود احمد شاہ کشمیر میں سیاحت کے شعبے کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات خراب ہونے سے کشمیر میں ٹورسٹ سیزن بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے اور اس سال بھارتی کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں چار سے پانچ لاکھ کمی آئی ہے۔

سیاحوں کے نہ آنے کے سبب جموں کی وادی کے ہوٹل بھی ویران پڑے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمجید کشمیر میں ہوٹل مالکان کی انجمن کے صدر ہیں اور کہتے ہیں کہ حالات جتنے بھی برے ہوں، ان کے پاس کشمیر میں رہنے اور کاروبار چلانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔

ہلال احمد وار ایک سینئر حریت رہنما ہیں جن کا کہنا ہے کہ آزادی کے حصول کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی راہ میں معیشت یا سیاحت کو پہنچنے والا مالی نقصان کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔

ان کے مطابق ’ہمارا نصب العین آزادی ہے چاہے اس کے لیے ہمیں چھوٹا نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے جیسا کہ معیشت وغیرہ۔ گزشتہ پانچ ماہ میں کشمیر کا ہر گاؤں، ہر بچہ اس تحریک کے ساتھ جڑا رہا ہے‘۔

دوسری طرف سیاحت کو درپیش مشکلات کا احساس علیحدگی پسندوں کو بھی ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں حریت کانفرنس نے سیاحوں کا خیر مقدم کیا ہے اور ریاست کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کا بھی کہنا ہے کہ کشمیر بھارت کے سیاحوں کے لیے محفوظ ترین جگہ ہے۔

ادھر ڈل جھیل میں عبدالرزاق جیسے کشتی چلانے والے اس آس میں ہیں کہ امن کے ساتھ سیاح بھی ایک دن پھر سے کشمیر کا رخ کریں گے اور ان کی خوشیاں اور رونقیں لوٹ آئیں گی۔

(سری نگر سے وائس آف امریکہ اردو کے لئے زبیر ڈار کی اس رپورٹ کو مدیحہ انور نے تحریر و ترتیب دیا ہے۔)

XS
SM
MD
LG