رسائی کے لنکس

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک بار لگائی جانے والی لپ اسٹک یا لپ گلوس کےکمیکل اجزاء جسم میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے چلے جاتے ہیں۔

خواتین کے بناؤ سنگھار میں لپ اسٹک کو ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے جس کے بغیر ان کا میک اپ ادھورا رہتا ہے۔ لیکن ایک تحقیق کے نتیجے میں خواتین کو خبردار کیا گیا ہے کہ زیادہ تر مقبول لپ اسٹک اور لپ گلوs میں زہریلی دھاتیں استعمال کی جاتی ہیں۔
یہ مہلک دھاتیں انسانی جسم کی ضرورت نہیں ہوتیں لیکن یہ خون میں آسانی سے تحلیل ہو جاتی ہیں۔ عام طور پر کاسمیٹکس مصنوعات میں کرومیم موجود ہوتا ہے لہذا ایسی خواتین جنھیں زیادہ تر میک اپ میں رہنا پڑتا ہے ان میں اس کمیکل کی شرح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ جو انھیں پھپھڑوں کے سرطان یا پیٹ کے سرطان میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو خواتین زیادہ تر ایک ہی طرح کے رنگوں کی لپ اسٹک اور لپ گلوس استعمال کرتی ہیں ان میں المونیم اور مینگینیز کی مقدار نقصان دہ حد تک بڑھ سکتی ہے۔
'کیلی فورنیا یونیورسٹی ' بارکلے' کے سائنسی تجزیہ کاروں کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں لڑکیوں اور خواتین سے ان کی پسندیدہ لپ اسٹک کے رنگ اور برانڈ معلوم کئے گئے جبکہ ان کے بیگ میں موجود لپ گلوس اور شام کی تقریبات کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص رنگوں کی لپ اسٹک کے بارے میں بھی معلومات جمع کی گئیں جس کے بعد لڑکیوں کی پسندیدہ 32 لپ اسٹکس کو لیبارٹری میں تحقیق کے لیے منتخب کیا گیا ۔
'جنرل انوائرمینٹل ہیلتھ' میں شائع ہونے والے نتیجےکے مطابق ہے تحقیق میں استعمال کی جانے والی تمام لپ اسٹک اور لپ گلوس میں کمیکلز کی بھاری مقدار شامل تھی جو انسانی صحت کے لیے مضر ہیں ۔
گذشتہ تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اگرجسم میں المونیم کی مقدار بڑھ جائے تو اس سے الزائمرز کاخطرہ پیدا ہو سکتا ہے جبکہ مینگنیز نامی دھات کی زیادتی انسان کے موڈ اور یاداشت کو متاثر کر سکتی ہے ۔
​ تحقیق میں شامل تجزیہ کار کیتھرین ہیمنڈ نے کہا کہ ،تحقیق کا نتیجہ زہریلی دھاتوں کی موجودگی سے کہیں زیادہ ان کی مقدار کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے ۔ وہیں یہ بات بھی حیرانگی کا باعث ہے کہ تحقیق میں شامل تمام لپ اسٹک اور لپ گلوس مضر صحت نہ ہونے کی گارنٹی کے ساتھ بیچی جاتی ہیں۔
اگرچہ ان لپ اسٹک کےناموں کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ بتایا گیا ہے کہ اس جانچ میں سستی اور مہنگی دونوں طرح کی مقبول لپ اسٹک استعمال کی گئی تھیں جو بازاروں اور ڈپارٹمنٹل اسٹورں پرباآسانی دستیاب ہیں۔
ایک تجارتی ادارہ کاسمیٹکس ’ٹوئلٹری اینڈ پرفیوم‘ سے تعلق رکھنے والے کرس فلاور نے تحقیق کے نتیجے کے بارے میں کہا لپ اسٹک میں استعمال کیا جانے والا فارمولا ساری دنیا میں کم وبیش ایک سا ہی ہوتا ہے۔
تحقیق کے سربراہ کے مطابق اگرچہ تحقیق کا نتیجہ کسی بہت بڑے خطرے کی پیشن گوئی نہیں سمجھا جا سکتا ہے تاہم یہ نتیجہ صحت ِعامہ کے اداروں کو جگانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG