رسائی کے لنکس

امریکہ میں عارضی قانونی رہائش کے حق میں پاکستانیوں کا مظاہرہ


امریکہ میں عارضی قانونی رہائش کے حق میں پاکستانیوں کا مظاہرہ

امریکہ میں عارضی قانونی رہائش کے حق میں پاکستانیوں کا مظاہرہ

نیو یارک، شِکاگو، ہیوسٹن اور واشنگٹن میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں جو تباہی آئی ہے اس کے بعد یہ پاکستانی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امریکی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم یا چند مہینوں کے ویزا پر آئے پاکستانیوں کو ٹی پی ایس دے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے رشتہ داروں کی مدد کر سکیں۔

پاکستانیوں نے امریکہ میں عارضی قانونی رہائش کے حق کے حصول کے لیے ہفتے کی دوپہر امریکہ کے چار بڑے شہروں میں مقامی پاکستانی قونصل خانوں کے باہر مظاہرے کیے ہیں۔ ٹمپریری پروٹیکٹڈ سٹیٹس یا ٹی پی ایس کہا جانے والا یہ حق ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو امریکہ میں پہلے سے موجود ہوں اور ان کے آبائی ملک میں کسی قدرتی آفت یا جنگ کی وجہ سے حالات غیر معمولی طور پر خراب ہوگئے ہوں۔ یہ حق ملنے کے بعد لوگ نہ صرف قانوناً امریکہ میں نوکری کر سکتے ہیں بلکہ اپنے ملک جا کر واپس امریکہ بھی آ سکتے ہیں۔

نیو یارک، شِکاگو، ہیوسٹن اور واشنگٹن میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں جو تباہی آئی ہے اس کے بعد یہ پاکستانی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امریکی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم یا چند مہینوں کے ویزا پر آئے پاکستانیوں کو ٹی پی ایس دے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے رشتہ داروں کی مدد کر سکیں۔

نیو یارک میں بسے پاکستانیوں نے سیلاب کے فوراً بعد ٹی پی ایس کا مطالبہ پیش کر دیا تھا۔

مین ہیٹن میں جمع ہونے والےمظاہرین کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی وکیل سلیم رضوی نے پاکستانی سفارت خانے سے وضاحت طلب کی کہ امریکی حکومت کو اس سلسلے میں کوئی تحریری درخواست دی گئی ہے یا نہیں۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ امریکہ انتظامیہ نے کیا جواب دیا ہے۔

نیو یارک میں پاکستانی قونصل جنرل فقیر سید آصف حسین گزشتہ ماہ ایک بریفنگ میں بتا چکے ہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستانی سفیر حسین حقّانی سمیت پاکستانی حکومت کے مختلف اہلکاروں نے امریکی انتظامیہ سے اس سلسلے میں بات کی ہے جنہوں نے اس مسئلے پر ہمدردانہ غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس سلسلے میں ایک بل امریکی کانگریس میں متعارف کرایا جا چکا ہے جسے ابھی بحث کے لیے پیش کرنا باقی ہے۔ انہوں نے پاکستانی نژاد امریکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں پر زور ڈالیں کہ جلد از جلد اس بل کو بحث کے لیے پیش کریں۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک اعلٰی اہلکار کے مطابق یہ بل نہ صرف گزشتہ کانگریس بلکہ نئی کانگریس میں بھی دوبارہ یہ بل متعارف کرا دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسے جلد منظور کر لیا جائے گا۔

یہ بل 12 جنوری کو امریکی کانگریس کے نمائندے ایل گرین نے شیلا جیکسن کے ساتھ مل کر متعارف کرایا ہے۔

ہفتے کو مین ہیٹن میں جمع پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ یہ معاملہ ایک بل کے ذریعے حل کرنے کے بجائے ایگزیکٹو آرڈر سے حل ہو جائے کیونکہ امریکی قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے۔

ہفتے کو ہونے والے مظاہرے میں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مقامی نمائندوں کے علاوہ دیگر پاکستانی تنظیمیں بھی شامل تھیں۔

ایک روز قبل بوسٹن میں بھی اس سلسلے میں ایک ریلی نکالی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG