رسائی کے لنکس

2016 میں پاک بھارت تجارت میں اضافہ ہو گا: حکام


سرحدی علاقے میں سامان سے لدا ایک ٹرک (فائل فوٹو)

سرحدی علاقے میں سامان سے لدا ایک ٹرک (فائل فوٹو)

کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پار تجارت کا آغاز 2008 میں ہوا تھا۔ 31 دسمبر 2015 تک بھارت سے 14,964 ٹرکوں نے سرحد عبور کی جبکہ پاکستان سے 8,704 ٹرک بھارت کے زیر انتظام علاقوں میں گئے۔

حکام نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع پونچھ میں چکن دا باغ کے مقام پر بارڈر کراسنگ پر فل باڈی سکینر نصب کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت میں دوطرفہ تجارت بڑھے گی۔

کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پار تجارت کا آغاز 2008 میں ہوا تھا۔ 31 دسمبر 2015 تک بھارت سے 14,964 ٹرکوں نے سرحد عبور کی جبکہ پاکستان سے 8,704 ٹرک بھارت کے زیر انتظام علاقوں میں گئے۔

پونچھ کے اسسٹنٹ کمشنر شفیق احمد نے کہا کہ یہ سکینر نصب کرنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔

’’سکیورٹی کے نقطہ نظر سے گاڑیوں کی تلاشی ایک مسئلہ ہے۔ ہر روز بمشکل 30 ٹرک سرحد پار کر پاتے ہیں۔ مگر فل باڈی سکینر نصب ہونے کے بعد ہر روز سامان سے لدے 200 ٹرک سرحد عبور کر سکیں گے۔‘‘

2008 سے 2015 تک چکن دا باغ میں دوطرفہ تجارت کا حجم 16 کروڑ 42 لاکھ سات ہزار ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

چکن دا باغ میں نگران تنویر احمد نے کہا کہ ’’31 دسمبر 2015 تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم 11 ارب (بھارتی) روپے تک پہنچ گیا۔ بھارت سے 5.66 ارب روپے کی تجارت ہوئی جبکہ پاکستان سے 5.34 روپے کی تجارت ہوئی۔ ہر سال تجارت کے حجم میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ تاجروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور تاجر اب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔‘‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کرنسی کی بجائے اشیا کے تبادلے کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ دونوں ممالک برابر قدر کی اشیا کی ایک دوسرے سے تجارت کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG