رسائی کے لنکس

امریکہ میں علی گڑھ مشاعرے کی روایت

  • بہجت جیلانی

ڈاکٹر عبد اللہ

ڈاکٹر عبد اللہ

ڈاکٹر عبداللہ نے کہا ہے کہ، امریکہ میں مشاعرے کے سامعین بدل گئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ، شاعر بھی بدل گئے ہیں۔ مثلاً، اُن کے بقول، بھارت میں مشاعرہ اب ایک ’بزنس‘ کا روپ دھار چکا ہے

امریکہ کے جانے پہچانے اردو شاعر، ڈاکٹر عبد اللہ کا کہنا ہے کہ،’لوگ علی گڑھ تو چھوڑ دیتے ہیں، لیکن علی گڑھ اُنھیں نہیں چھوڑتا‘۔

اُنھوں نے یہ بات ’وائس آف امریکہ‘ سے ایک خصوصی گفتگو میں کی۔ ڈاکٹر عبد اللہ کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے 1975ء میں امریکہ میں اردو مشاعرے کی داغ بیل ڈالی، جِس کے لیے ’علی گڑھ المنائی ایسو سی ایشن‘ تشکیل دی گئی۔

اِس سوال پر کہ امریکہ میں مشاعرے کی روایت کیسے پڑی، اُنھوں نے کہا کہ اِس قافلے میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے اردو سے محبت رکھنےوالے حضرات سامنے آئے، جِنھوں نے اِس بات کو ایک چیلنج کے طورپر لیا، جب کہ ابتدا میں اُنھیں بے انتہا مشکلات درپیش آئیں۔ اُن کے الفاظ میں، ’ہمیں یہ معلوم کرنے میں چھ ماہ لگےکہ امریکہ میں کُل کتنے شعراٴ ہیں۔ اور 1975ء میں 23افراد ایسے تھے جو شاعر ہونے کے دعویدار تھے‘۔

شاعروں کے لیے ویزا کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ تجربہ یہ کہتا ہے کہ ویزے ملنے میں پاکستان کے شعراٴ کو بھارت کے مقابلے میں زیادہ دقت درپیش آتی ہے۔

نئی نسل میں زبان و شاعری سے وابستگی کے جذبے کے بارے میں ڈاکٹر عبد اللہ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عالمی نوعیت کا ہے، جہاں ہر معاشرے کی نئی نسل دھیرے دھیرے اپنی ثقافتوں سے دور ہوتی جاتی ہے۔

اُن کے بقول، نئی نسل میں زبان کے لیے تو وہ لگاؤ نہیں رہا، لیکن دوسرے فلاحی کاموں کے لیے لوگ اب بھی اِکٹھے ہوتے ہیں اور دلچسپی رکھتے ہیں، جیسے ’اسکالرشپ پروگرام‘۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ، اُن کے بقول، اُن کے مشاعرے کے سامعین بدل گئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ، شاعر بھی بدل گئے ہیں۔ مثلاً، بھارت میں مشاعرہ اب ایک ’بزنس‘ کا روپ دھار چکا ہے۔

یہاں امریکہ میں زیادہ تر مزاحیہ کلام یا بہت ہی سادہ زبان میں کہے گئے اشعار جِن میں گہرائی نہ ہو، سامعین کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔باقی، جو گہرائی یا بصیرت چاہیئے تھی، وہ تربیت دھیرے دھیرے ختم ہوتی جارہی ہے۔ اِس طرح کے لوگ، بقول اُن کے، کم ہی رہ گئے ہیں۔

ڈاکٹر عبد اللہ ایک سائنس داں، سرگرم سماجی کارکن اور شاعر ہیں، جِنھوں نے امریکہ میں اردو زبان کی ترویج و اشاعت کی کوششوں میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ واشنگٹن میں ’علی گڑھ المنائی ایسو سی ایشن‘ بین الاقوامی مشاعروں سے لے کر مسلمان طلبا ٴو طالبات کے لیے اسکالرشپ بھی فراہم کرتی ہے۔

تفصیل سننے کے لیے درج ذیل آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG