رسائی کے لنکس

ہر کوئی ملک کا بادشاہ بنا ہوا ہے اور ہر کسی کو کسی نہ کسی سگنل پر استثنیٰ حاصل ہے۔ نہ جانے ہمارا ملک کب اس استثنیٰ سے مستثنیٰ ہوگا؟

یپ پیپ۔۔ پومپ پومپ۔۔ دھڑام!!!

" آنکھیں ہیں یا بٹن؟ دیکھ کر گاڑی نہیں چلاسکتے؟"

ایسی آوازیں ہم تب سنتے ہیں جب ہم ٹریفک قوانین کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جو فٹ بال میں سارے کھلاڑی مل کر گیند کے ساتھ کرتے ہیں۔

کوئی کسی کی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دیتا ہے اور پھر ہم وہیں سڑک پر عدالت لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون زیادہ غلط گاڑی چلا رہا تھا؟ حالاں کہ قانون صاف ہونا چاہیے۔ جیسا کہ جو پیچھے سے گاڑی مارے گا قصور اس کا ہو گا۔ لیکن یہاں تو ہم سب کا اپنا اپنا قانون ہے۔

ٹریفک سگنل پر بھی ہم سب جج بنے "ازخود نوٹس کیس" کی سماعت کرتے ہوئے یہ طے کرتے ہیں کہ میں اس سگنل پر رکوں یا نہیں؟ ہر کوئی ملک کا بادشاہ بنا ہوا ہے اور ہر کسی کو کسی نہ کسی سگنل پر استثنیٰ حاصل ہے۔ نہ جانے ہمارا ملک کب اس استثنیٰ سے مستثنیٰ ہوگا؟

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سلمان کاظم کہتے ہیں کہ قوانین کا توڑنا، سب سے پہلے آگے نکلنے کی کوشش کرنا اور قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار نہ کرنا صرف ٹریفک نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہمارا مسئلہ ہے۔ عام لوگوں سے لے کر سیاست دانوں تک جو جہاں اپنی مرضی چلا سکتا ہے، چلاتا ہے اور کم سے کم وقت میں منزل پر پہنچنا چاہتا ہے۔

'وائس آف امریکہ' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سلمان نے کہا کہ پاکستان میں یہ بیماری نہیں بلکہ ہمارا قومی کردار ہے لیکن کچھ لوگوں میں 'روڈ ریج' نامی بیماری بھی ہوتی ہے جس میں لوگ ٹریفک میں دوسروں سے لڑائی جھگڑے پر اتر آتے ہیں جن میں کبھی کبھار لوگوں کی جان بھی چلی جاتی ہے۔

خاص طور پر رمضان کے روزوں میں تو افطار سے گھنٹہ بھر پہلے ہر ایک کو سب سے پہلے گھر پہنچنے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ جیسے صرف وہ ہی گھر جا رہا ہے اور صرف اسی کا روزہ ہے۔

اس وقت ہماری سڑکوں پر ہر کوئی اتنی جلدی میں ہوتا ہے جیسے وہ پاکستانی چینلوں پر سحر و افطار میں دکھائے جانے والے اسلامی نیلام گھر شوز کا میزبان ہو جو اگر وقت پر نہ پہنچا تو سحر و افطار میں مسلمانوں سے کبھی اسلامی اور کبھی فلمی سوالات پوچھنے سے محروم رہ جائے گا اور عبادت کے وقت لوگوں سے عبادت کی باتیں کرکے انھیں عبادت کرنے نہیں روک پائے گا۔

کچھ لوگ تو ٹریفک میں ودسرے ڈرائیوروں سے ایسا سلوک کرتے ہیں کہ جیسے وہ خود اکیلے ہی مسلمان ہوں اور باقی تمام ٹریفک کافروں کی ایک فوج ہو جن سے یہ مسلمان ڈرائیور صاحب اسلام کی سربلندی کے لئے حالتِ جنگ میں ہوں۔

ہمارے ایسے "اہلِ ایمان" ڈرائیور صاحبان جان کی بازی لگا دیتے ہیں لیکن کسی کو راستہ نہیں دیتے چاہے اس مقصد کے لیے انہیں روزے کی حالت میں اپنے منہ کو 'ہارن' بنا کر تمام راستے لوگوں کو لغویات بکتے اور ان کی گالیاں کھاتے ہوئے ہی کیوں نہ راستہ بنانا پڑے ۔

کراچی کے ایک سینئر براڈکاسٹر اجنبی جو خود کئی برسوں سے گاڑی چلارہے ہیں کہتے ہیں کہ پاکستانی ڈرائیور شتر بے مہار اور بے نکیل اونٹ کی طرح ہیں۔

پچھلے 15 برسوں سے شہر میں ٹیکسی چلانے والے محمد شفیع کہتے ہیں، "قصور گاڑی والوں کا بھی ہوتا ہے لیکن پیدل چلنے والے ان مسائل کی جڑ ہیں کہ سگنل سے پہلے زیبرا کراسنگ سے نہیں بلکہ عین سگنل پر پہنچ کر روڈ کراس کرتے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب اشارہ ہرا ہو چکا ہو اور اس وجہ سے سب گاڑیوں والے ان پیدل چلنے والوں کو بچانے اور دوسری گاڑیوں سے بچنے کے چکر میں گھن چکر بن جاتے ہیں"۔

ہم کوئی اور کام مل کر کریں یا نہ کریں، قانون مل کر توڑتے ہیں۔ سگنل توڑتے وقت پہلے ایک بے چین موٹر سائیکل والا چند انچ آگے بڑھتا ہے پھر دوسرا بائیک والا مزید چند انچ اور پھر ایک رکشے والا ٹریفک کو دوسروں کے معاملات سمجھ کر اس میں اپنا اگلا پہیہ ٹانگ کی طرح اڑا دیتا ہے۔

پھر ایک چھوٹی گاڑی اور ویگن ان کا ساتھ دیتے ہیں اور ٹریفک قوانین کی اس اجتماعی آبرو ریزی میں وہ پڑھے لکھے بڑی گاڑیوں والے بھی آگے آگے ہوتے ہیں جو جب ملک سے باہر جاتے ہیں تو قانون کی پاسداری کرتے ہوئے گاڑی چلاتے ہیں اور پاکستان آ کر قانون پر اپنی چلاتے ہیں ۔

شاید اسی لیے قانون نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے کہ یہ سب دیکھنا نہ پڑے۔ حالاں کہ اس سلوک کے بعد تو قانون کے کہیں اور بلکہ پورے جسم پہ پٹی بندھی ہونی چاہیے۔

ملک میں انقلاب لانے کے دعوے دار ہم لوگ ملک کو کیا آئین و قانون کے مطابق چلائیں گے جب ہم اپنی گاڑی تو قانون کے مطابق چلاتے نہیں؟ گاڑی ہی کیا اسکوٹر اور پیدل چلنے والے بھی قانون توڑنے کے اس حمام میں ننگے ہیں اور یہ ننگا پن دیکھنے سے بچنے کے لئے ہمیں قانون کی آنکھوں سے پٹی اتار کر اپنی آنکھوں پر باندھ لینی چاہیے۔

خیر اب میں جا رہا ہوں۔ کہاں؟ بھائی گاڑی اسٹارٹ کروں گا، سڑک پر نکلوں گا، اور پھر ٹریفک قوانین کے ساتھ کیا کروں گا۔ ۔ آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کیوں کہ یہ تو ہمارا قومی کھیل بن گیا ہے کہ بولو کچھ اور، اور کرو، پیپ پیپ۔۔ پومپ پومپ۔۔ دھڑام!!! " آنکھیں ہیں یا بٹن؟ دیکھ کر گاڑی نہیں چلاسکتے؟"
XS
SM
MD
LG