رسائی کے لنکس

یہ اقدامات ان کی اپنی حفاظت کے لئے اٹھائے گئے ہیں۔ کراچی میں رینجرز اور پولیس کے بعد اب ٹریفک پولیس اہلکار بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ گذشتہ اتوار کو گلشن اقبال میں دو ٹریفک پولیس اہل کاروں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔۔۔

گزشتہ دو روز سے کراچی کا ٹریفک کنٹرول کرنے والے پولیس اہلکارسیاہ رنگ کی بلٹ پروف جیکٹس پہنے نظر آ رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اب وہ جدید ہتھیاروں سے بھی لیس نظر آتے ہیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی امیر شیخ کے مطابق ’یہ اقدامات ان کی اپنی حفاظت کے لئے اٹھائے گئے ہیں۔ کراچی میں رینجرز اور پولیس کے بعد اب ٹریفک پولیس اہل کار بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ گزشتہ اتوار کو گلشن اقبال میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا، جبکہ 25 اگست کو بھی ایسے ہی ایک اور واقعے میں مزید دو اہلکار دہشت گردی کا شکار ہوئے۔‘

امیر شیخ نے مزید کہا ہے کہ ’حالیہ واقعات سے ہٹ کر دیکھیں تو پچھلے تین سالوں میں 15 ٹریفک پولیس اہلکار دہشت گرد کی بھینٹ چڑھے۔‘

حملوں کے بڑھتے ہوئے ان واقعات کو دیکھتے ہوئے ٹریفک اہلکاروں کو جدید اسلحہ کے ساتھ بلٹ پروف جیکٹس پہن کر اپنے فرائض سر انجام دینا ہوں گے۔ آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کی ہدایات پر ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے لیے 613 پستول، ریوالور اور 300 بلٹ پروف جیکٹس فراہم کردی گئی ہیں۔

ٹریفک پولیس کو ساوٴتھ زون ہیڈکوارٹر کی جانب سے 400، ایسٹ زون 35 اور ویسٹ زون کی جانب سے28 پستول اور ریوالور فراہم کی گئی ہیں، جبکہ اے آئی جی لاجسٹکس کی جانب سے 150 پستول اور 300 بلٹ پروف جیکٹس بھی ٹریفک پولیس کے حوالے کی گئیں۔

شہر کے ریڈ زون میں آنے والے علاقوں مثلاً ایوان صدر روڈ، فوارہ چوک، صدر، آئی آئی چندریگر روڈ اور میٹروپول ہوٹل اور سول لائنز اور اس کے اطرافی علاقوں میں تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں نے جدید ہتھیاروں اور بلٹ پروف جیکٹس پہن کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG