رسائی کے لنکس

چینی خواتین کی اسمگلنگ خطرناک حد تک بڑھ گئی


چینی خواتین کی اسمگلنگ خطرناک حد تک بڑھ گئی

چینی خواتین کی اسمگلنگ خطرناک حد تک بڑھ گئی

ایک چینی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ مجرموں کے کئی بین الاقوامی گروہ بڑی تعداد میں چینی خواتین کی جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور افریقہ اسمگلنگ میں ملوث ہیں جہاں ان خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

چین کے سرکاری اخبار ’چائنا ڈیلی‘ میں پیر کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسمگل کی جانے والی خواتین کی اکثریت دیہی علاقوں سے تعلق رکھی ہے، جنہیں انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم یا اچھی ملازمتوں کے حصول کا جھانسا دے کرملک سے باہر لے جاتے ہیں۔

تاہم اخبار کے مطابق چینی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چینی خواتین کی اسمگلنگ کے بیشتر کیسز اندرونِ ملک پیش آتے ہیں جہاں نسبتاً غریب علاقوں کی خواتین کو ملک کے کسی اور حصے میں منتقل کرکے جبری شادی پہ مجبور کیا جاتا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ چین کی وزارتِ عوامی سلامتی کی جانب سے اپریل 2009 ءمیں انسانی اسمگلنگ کے خلاف شروع کی گئی ایک ملک گیر مہم کے بعد سے اب تک چینی پولیس نے انسانی اسمگلنگ کی 9165 کوششوں کو ناکام بنا کر 17746 خواتین کو مجرم گروہوں کے شکنجے سے آزاد کرایا۔

خواتین کی اسمگلنگ کے خلاف آواز بلند کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’آل گرلز الائوڈ‘ کی بانی چائی لنگ کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے قحبہ خانے چینی خواتین کی ایک بڑی منڈی بن چکے ہیں ۔ چائی لنگ کے مطابق صنفی عدم توازن کے شکار چینی معاشرے کے کئی مقامی خاندان بھی اپنے بیٹوں کی شادی یقینی بنانے کےلیے اسمگلنگ کا سہارا لیتے ہیں۔

چائی لنگ کا کہنا ہے کہ چینی معاشرے میں لڑکوں کو لڑکیوں پر اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ انہیں خاندان کا سہارا اور نسل آگے بڑھانے کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بقول اس صورت میں اگر کوئی خاتون کسی لڑکی کو جنم دے تو کئی خاندان اس بچی کو فروخت تک کرنے سے نہیں چوکتے۔

وہ کہتی ہیں کہ چین کی ’ون چائلڈ پالیسی‘ کے باعث چینی معاشرے میں صنفی عدم توازن بڑھ رہا ہے اور عنقریب چین میں ایسے نوجوانوں کی تعداد چار کروڑ تک پہنچ جائے گی جنہیں صنفِ مخالف سے اپنا جوڑ دستیاب ہی نہیں ہوگا۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر چین کے اندر بھی خواتین اور لڑکیوں کی اسمگلنگ ایک خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔

چائی لنگ کا دعویٰ ہے کہ کم عمری میں فروخت کی جانے والی کئی لڑکیوں کو ایسے چینی خاندان ہی خرید لیتے ہیں جنہیں اپنے لڑکوں کیلیے بیویوں کی تلاش ہوتی ہے۔ ان کے بقول اس طرح کے کیسز میں کم عمری میں شادی کیے جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے جو کئی دیگر معاشرتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG