رسائی کے لنکس

’پیارے افضل‘ پاکستان کے یادگار ڈراموں میں ایک نیا اضافہ ہے۔۔۔کچھ ناظرین کہتے ہیں یہ ملکی ڈرامہ انڈسٹری کا ’فخر‘ ہے۔۔تو کچھ کو افسوس ہے کہ ڈرامے میں افضل کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔۔بھلا کیوں ؟۔۔۔ ملاخطہ کیجئے:

پاکستان میں پچھلے دو دنوں سے عوامی سطح پر’گھرگھر‘ اور’دفتر دفتر‘ یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ ’افضل کو کیوں مارا‘۔۔۔’افضل مرگیا۔۔‘ ۔۔’بھلا افضل کو مارنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔‘کچھ ’بے خبر‘ لوگوں کو جب افضل کی موت کا علم ہوا تو وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھے ’ افضل پی ٹی آئی کا ورکر تھا ۔۔یا۔۔’عوامی تحریک کا۔۔۔؟‘

حالانکہ، افضل کسی بھی پارٹی کا ورکر نہیں تھا۔۔۔وہ تو بس ’پیارے افضل‘ میں ہر منگل کو اے آر وائی ڈیجیٹل‘ کی منی اسکرین پر نظر آتا تھا ۔۔۔نظر آتے آتے ہی لوگوں کے دلوں میں اترتا چلا گیا اور دیکھنے والوں نے اس سے ایسی جذباتی وابستگی قائم کرلی کہ جب آخری قسط میں افضل کو مرتا ہوا دکھایا گیا تو۔۔۔سب چیخ اٹھے۔

کسی کو ’پیارے افضل‘ کی موت گوارا نہ ہوئی۔۔۔اسی لئے بدھ کی صبح سے اب تک سوشل میڈیا ۔۔۔گھروں اور دفتروں میں ۔۔۔سب جگہ یہی سوال گردش کررہا ہے کہ ’افضل کو کیوں مارا۔۔۔بھلا اسے مارنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔؟‘

’وائس آف امریکہ‘ سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے والی’پیارے افضل کی ایک ناظر صبا کا کہنا ہے ’میرے خیال میں، کسی ٹی وی ڈرامے کے کردار میں عوامی دلچسپی کا یہ عالم اور یہ جنون۔۔ ’آسکر ایوارڈ‘ سے بھی بڑا درجہ رکھتا ہے۔‘

کچھ اور ناظرین کا کہنا ہے کہ ’منگل کی رات ہمارے گھر میں ٹی وی ریموٹ پر قبضے کی جنگ تھی۔۔مردوں کو ’اگست‘ میں بھی ’مارچ‘ کی پڑی تھی اور ہم خواتین کو پچھلے ہفتے سے ہی یہ غم تھا کہ آج ’پیارے افضل‘ کو آخری بار دیکھ سکیں گے۔۔۔جانے اس کا کیا ہوگا۔۔یاسمین دیوانہ وار چاہت کے باوجود افضل کو اس کی پہلی محبت کے حوالے کر بیٹھی ہے۔ تو خود کا اب کیا ہوگا؟ افضل کے والد سخت مزاج ’مولوی (سبحان اللہ) صاحب‘ جو افضل کو ناخلف قرار دے کر بھی اس کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے رہے ہیں۔۔اب افضل انہیں ملے گا بھی کہ نہیں۔۔۔محبت کی ماری افضل کی ماں کی بیٹے کے لئے تڑپ کم ہوسکے گی یا نہیں۔‘

پاکستان ٹی وی ڈراموں کی تاریخ میں ایسے بہت سے ڈرامے نشر ہو چکے ہیں جن کے آن ائیر ہوتے ہی گلیاں سنسان اور سڑکیں ویران ہوجاتی تھیں۔۔ شادیوں کے وقت ڈرامے کے بعد رکھے جاتے تھے اور ڈرامے کے بعد تبصروں کا سلسلہ کئی ہفتوں تک چلتا تھا۔ ’پیارے افضل‘ نے ماضی کی اس یادگار کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔

کئی سال پہلے جب پی ٹی وی سے ’ہوائیں‘ نشر ہوا تھا ۔۔تو بھی اس کی آخری قسط میں مرکزی کردار کو پھانسی ملنے کے سین نے گھر گھر ’تہلکہ‘ مچا دیا تھا۔ ۔۔لوگوں میں گویا ایک کہرام سا مچ گیا تھا۔ اب ’پیارے افضل‘ نے بھی وہی کچھ کر دکھایا۔

’پیارے افضل‘ کی شاندار کامیابی نے ’افضل‘ کا کردار ادا کرنے والے حمزہ علی عباسی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے ایک شاعر کے گینگسٹر بننے تک کے سفر کو اس خوبی سے اسکرین پر پیش کیا کہ لوگ ’حمزہ‘ کو اب ان کے اصل نام کے بجائے ’افضل‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

ڈرامے کی شاندار کامیابی میں اس کے مکالموں نے ریڑھ کی ہڈی جیسا اہم کردار ادا کیا۔

اقساط کے درمیان جگہ جگہ ان مکالموں نے ناظرین کو رلا رلا دیا ہے۔ اس پر صبا حمید اور فردوس جمال کی ماہرانہ اداکاری نے گویا چار چاند لگا دیئے۔ پھر عائزہ خان، سوہا علی ابڑو، ثنا جاوید، صبا فیصل، انوشے عباسی، شہریار زیدی۔۔۔مصنف خلیل الرحمٰن قمر اور اس کے ڈائریکٹر ندیم بیگ ۔۔سب نے کمال کر دکھایا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG