رسائی کے لنکس

سرکاری اہل کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ یورپ سمجھوتے کے نتیجے میں بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف کی معیشتوں میں سالانہ 100 ارب ڈالر کا اضافہ آئے گی

امریکی اور یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے مذاکرات کاروں نے پیر کے روز نیویارک میں متنازع بحر اوقیانوس پار ممالک کے درمیان تجارتی سمجھوتا طے کرنے کے موضوع پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کیا۔

اس تجویز کو امریکی صدر براک اوباما اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی سربراہ، جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل دونوں کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم، اِس سمجھوتے کے خلاف اختتام ہفتہ جرمنی، آسٹریا، بلیجئیم اور فِنلینڈ میں ہزاروں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

میونخ میں مظاہرہ کرنے والی، لِزا میونز کے بقول، ’ہم اس کے مخالف ہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے۔۔۔ جنیٹک انجنیئرنگ کے حوالے سے جرمنی میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہی کافی ہے‘۔

بات چیت کا یہ نیا دور جمعے تک جاری رہ سکتا ہے، جب کہ اور گذشتہ سال سے مذاکرات کی یہ نویں نشست ہے۔
سرکاری اہل کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ یورپ سمجھوتے کے نتیجے میں بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف کی معیشتوں میں سالانہ 100 ارب ڈالر کا اضافہ آئے گی۔

اس کے باعث، امریکہ اور یورپی یونین کے 28 ملکوں کی دنیا کی سب سے بڑی انفرادی معشیت کے درمیان پہلے ہی سے کم محصول میں مزید کٹوتی لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اِن ملکوں کی مجموعی معیشت امریکہ سے بھی بڑی ہے۔ معاہدے کے نتیجے میں، دونوں براعظموں کے درمیان موجودہ ضابطوں میں پختگی آئے گی اور مصنوعات اور خدمات کے وسیع شعبہ جات میں بہتری آئے گی۔

تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صارفین کے مقابلے میں طاقت ور شراکتی اداروں کے مفادات میں زیادہ ہے، جس میں خوراک اور حفظان صحت کے معیار کا معاملہ شامل ہے۔

مجوزہ سمجھوتے میں سب سے زیادہ متنازع شق یہ ہے کہ اب حکومتوں کے خلاف عدالتی چارہ جوئی ممکن ہوگی، جن ضوابط کو انفرادی ملکی قوانین پر سبقت حاصل ہوجائے گی۔

XS
SM
MD
LG