رسائی کے لنکس

مدھو بائی کنز نے ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع رائے گڑھ کے میئر کے اںتخاب میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حکمران جماعت 'بھارتیہ جنتا پارٹی' کے امیدوار کو شکست دی۔

بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ایک خواجہ سرا نے ملک میں پہلی بار بلدیاتی انتخاب جیت کر پہلا ڈسٹرکٹ مئیر بننے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے الیکشن کمیشن کے مطابق مدھو بائی کنز نے اتوار کو ریاست کے ضلع رائے گڑھ کے میئر کے اںتخاب میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حکمران جماعت 'بھارتیہ جنتا پارٹی' کے امیدوار کو شکست دی۔

مدھو بائی بھارت کی پہلی خواجہ سرا ہیں جنہوں نے ضلعی مئیر کا انتخاب جیتا ہے۔ انہوں نے اپنے حریف بی جے پی کے امیدوار مہاویر گروجی کو 4,537 ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔

'پریس ٹرسٹ آف انڈیا' کے مطابق 35 سالہ مدھو بائی کنز کا تعلق بھارت میں کم تر سمجھی جانے والی ذات دلت سے ہے جسے پہلے اچھوت بھی کہا جاتا تھا۔

انہوں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا اصل نام نریش چوہان ہے۔ وہ میئر منتخب ہونے سے پہلے ممبئی کی ٹرینوں میں گانے اور ناچ کر روزی روٹی کمایا کرتی تھیں لیکن اپنی برداری کی طرف سے انتخابات میں نمائندگی ملنے کے بعد انہوں نے اس پیشے کو خیر باد کہہ دیا ہے۔

ایک ٹی وی فوٹیج میں مدھو بائی کنز کو انتخاب میں فتح حاصل کرنے کے بعد اپنے حامیوں کے بیچ جشن مناتے ہو ئے دکھایا گیا ہے۔ انھوں نے ساڑھی پہنی ہوئی ہے اور ماتھے پر سرخ بندیا ہے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کر رہی ہیں۔

مدھو بائی نے میئر منتخب ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جیت کو لوگوں کی طرف سے اپنے لیے پیار اور عزت تصور کرتی ہیں۔

انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ لوگوں کو مایوس نہیں کریں گی اور ان کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے بھرپور کوششیں کریں گی۔

خیال رہے کہ بھارت میں گزشتہ برس ہی خواجہ سراؤں کو ملک کی اعلٰی ترین عدالت نے تیسری جنس یا غیر جانبدار صنف کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

اس سے قبل 30 سالہ خواجہ سرا پدمنی پرکاشی کو بھارت کے تامل ٹی وی کی پہلی خواجہ سرا نیوز اینکر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG