رسائی کے لنکس

پاکستان کے وزیر اطلاعات نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بدعنوان ملکوں کی فہرست میں پاکستان کے درجے میں کمی آئی ہے اور اب "ایمانداری کی طرف اس کے قدم اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔"

بدعنوانی پر نظر رکھنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق جنوبی ایشیا کے ممالک دنیا میں سب سے زیادہ بدعنوان ملک ہیں اور ان کی حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ انسداد بدعنوانی کے اداروں کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت دے۔

یہ بات تنظیم کی طرف سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں کہی گئی ہے جس میں خاص طور پر بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال میں بدعنوانی سے متعلق تجزیہ پیش کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ان چھ ملکوں میں بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے یا اس کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے بہت سے مشکلات اور مسائل کی وجہ سے رشوت اور اختیارات کے غلط استعمال کی راہیں کھلتی ہیں۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے ایشیا بحرالکاہل کے ڈائریکٹر سریراک پلیپاٹ کا کہنا تھا کہ " یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مضبوط اقتصادی ترقی والے خطے میں غربت بھی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو؟ تو اس کا جواب ہے بدعنوانی۔ یہ چند لوگوں کو ان کے اقدامات کے احتساب کے بغیر فائدہ حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ جب تک بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا اس وقت تک جنوبی ایشیا کے رہنما خطے کے مستقبل کو اس خطرے سے نہیں بچا سکتے ہیں کہ یہاں ہونے والی ترقی سے صرف چند لوگ ہی فائدہ اٹھائیں گے اور یہاں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے 50 کروڑ لوگوں کی اس سے کوئی مدد نہیں ہو گی۔

رپورٹ میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا کہ بدعنوانی یا کرپشن خطے کی حساس سیاسی و اقتصادی نمو کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ورلڈ بینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ بیس سالوں میں ہونے والی اوسطاً چھ فیصد ترقی کے باوجود اس خطے میں 31 فیصد لوگ اب بھی 1.25 ڈالر یومیہ سے کم پر زندگی گزار رہے ہیں۔

تنظیم نے رپورٹ میں انسداد بدعنوانی کے لیے کام کرنے والے اداروں میں حکومت کے عمل دخل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد اور اداروں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دینا ضروری ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے رپورٹ میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے 2007ء میں بدعنوانی کے ایک معاملے میں لوگوں کا پیسہ غبن کرنے والے شخص سے دو کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی رقم واپس وصول کی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر اپنے فوری ردعمل میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے اس دور میں ٹرانسپرنسی اور دوسرے بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں حکومتی سطح پر کسی قسم کی بدعنوانی تو درکنار کسی نے اس کی نشاندہی بھی نہیں کی۔

"ہماری حکومت کے ان گیارہ مہینوں میں کسی بھی پراجیکٹ پر کسی نے نشاندہی بھی نہیں کی اور پاکستان کا درجہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں بدعنوان ملکوں میں کم ہوا ہے پہلے کے مقابلے میں۔ اب اس کو سمجھیں کہ ایمانداری کی طرف اس کے قدم اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔"

شفافیت کو فروغ اور اس کے قوانین کو مزید موثر بناتے ہوئے حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ سرکاری محکموں میں عوام کی طرف سے موصول ہونے والی شکایات کے لیے رابطہ افسر تعینات کریں، کیونکہ بعض اوقات لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ انھیں اپنے حقوق کیسے حاصل کرنے ہیں اور نہ ہی سرکاری افسران اس بات سے واقف ہوتے ہیں کہ ان درخواستوں پر کیا اور کیسے ردعمل کیا جانا ہے۔

علاوہ ازیں رپورٹ میں بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کے تحفظ کے لیے موثر قانون سازی اور اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں اس ضمن میں قوانین ہیں لیکن یا تو وہ بہت کمزور ہیں یا پھر ان کے بارے میں لوگوں کو آگاہی نہیں۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان، نیپال، مالدیپ اور سری لنکا میں اس متعلق قانون موجود نہیں۔

سریراک پلیپاٹ کا کہنا تھا کہ شفافیت کو حکومتیں اپنی بہترین سرمایہ کاری پائیں گی جو ان کی طرف سے کی گئی۔ ان کے بقول بدعنوانی کی نشاندہی سے کرپشن کے اربوں روپے بچائے جا سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG