رسائی کے لنکس

مسلم اکثریتی ملکوں پر امریکی پابندی داعش کے مفاد میں ہے


داعش کا جنگجو۔ فائل فوٹو

سوشل میڈیا پر داعش کے پیغام کے زیر اثر ہم کئی ملکوں میں چھوٹے پیمانے کے دهشت گرد حملے دیکھ چکے ہیں، اس حوالے سے یہ چیز ممکنہ طور پر جلتی پر مزید تیل چھڑکنے کا معاملہ ہے۔

کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ جیسے جہادی گروپ امریکہ کی جانب سے سات اسلامی ملکوں پر حالیہ سفری پابندیوں کو اپنی صفوں میں رنگروٹ بھرتی کرنے کے ایک حربے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

دهشت گردی کی نگرانی سے متعلق امریکہ میں قائم ایک گروپ ایس آئی ٹی ای انٹیلی جینس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عارضی پابندیوں پر مبنی نافذالعمل ایکزیکٹو آرڈر سے یہ تاثر ملا ہے کہ امریکہ مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔

وہائٹ ہاؤس یہ کہہ چکا ہے کہ پابندیاں امریکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہیں ۔ اس حکم سے متاثر ہونے والے ممالک عراق، ایران، لیبیا، یمن، شام اور صومالیہ ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ 90 روز کی پابندیوں کے اس انتہائی غیر مقبول اقدام کو صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابي مہم کے دوران بار بار کیے جانے والے وعدوں کے ساتھ امریکہ کی تقریباً آبادی کی حمایت حاصل ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سربراہ جان کیلی نے پچھلے ہفتے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اس پابندی کا نشانہ خصوصي طور پر مسلمان نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ادارے کا عزم اپنے ملک میں امریکیوں اور ان کی اقدار کی حفاظت کرنا ہے۔

ایک تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے سینیر سیاسی تجزیہ کار جونا بلینک کا کہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ اس انتظامی حکم کو اپنی بھرتیوں کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اس گروپ کے حامی سوشل میڈیا پر اسے مختلف انداز میں اپنے مفاد کی خاطر استعمال میں لا رہے ہیں۔

ٹیکساس میں قائم ایک تھنک ٹینک سٹریٹ فر کے نائب صدر سکاٹ سٹوارٹ کہتے ہیں کہ اگر ہم فی الواقع یہ جائزہ لیں کہ امریکہ گذشتہ 15 برسوں کے دوران جنگوں میں اپنی شرکت کے طور پر کیا کرتا رہا ہے تو میرا نہیں خیال کہ یہ چیز لمبے عرصے کے لیے اتنی زیادہ مؤثر ہو سکے گی۔

سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹر نیشنل اسٹڈیز کے ایک اسکالر گریک پولنگ کہتے ہیں کہ اسلامک اسٹیٹ اپنا پیغام پھیلانے اور اپنے پیروکاروں پر اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا کو مختلف انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ ان کے اثر کے تحت ہم گذشتہ چند برسوں کے دوران کئی ملکوں میں چھوٹے پیمانے کے دهشت گرد حملے دیکھ چکے ہیں، اس حوالے سے یہ چیز ممکنہ طور پر جلتی پر مزید تیل چھڑکنے کا معاملہ ہے۔

پولنگ کا کہنا تھا کہ بہت سے ملک اپنے اندر بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے خائف ہیں اور انہیں اس سے زیادہ فکر یہ ہے کہ اگر اسلامک اسٹیٹ کو شکست ہو جاتی ہے اور جنگجو اپنے ملکوں کو واپس لوٹ جاتے ہیں تو پھر کیا صورت حال ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ انڈونیشیا اور پاکستان جیسے سب سے زیادہ مسلم آبادی کے ملک پابندی کی اس فہرست میں شامل نہیں ہیں، لیکن اگر ان میں یہ إحساس تقویت پکڑتا ہے کہ انہیں امریکہ میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا اور وہ اپنے طالب علموں کو امریکہ کی بجائے برطانیہ یا آسٹریلیا بھیجنا شروع کر دیتے ہیں تو یہ امریکی تعلیمی اداروں کے لیے کتنا برا ہوگا۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG