رسائی کے لنکس

امریکہ: پناہ کے متلاشی افغان فوجی کو مقدمے کا سامنا


میجر جان آرش، کیپٹن نوراللہ امین یار، کپٹن محمد ناصر عسکرزادہ 22 ستمبر سے نیویارک کی امیگریشن جیل میں قید ہیں۔ انہیں اس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ سیاسی پناہ کے لیے کینیڈا جانا چا ہتے تھے۔

امریکہ میں دوران تربیت سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے بھاگنے والے تین افغان فوجیوں میں سے ایک کے خلاف ملک بدری کے مقدمہ کے سماعت نو دسمبر کو شروع ہو گی۔

نیویارک میں ایک امیگریشن جج نے بدھ کو میجر جان آرش کی ضمانت پر رہائی کے لیے 25,000 ڈالر کا زرضمانت مقرر کیا تھا۔

تاہم ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ میجر آرش کو فوری طور پر رہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایک غیر فوجداری امیگریشن کے مقدمہ کے لیے یہ ’’غیر معمولی طور پر زیادہ رقم ہے۔‘‘

میجر جان آرش، کیپٹن نوراللہ امین یار، کپٹن محمد ناصر عسکرزادہ 22 ستمبر سے نیویارک کی امیگریشن جیل میں قید ہیں۔ انہیں اس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ سیاسی پناہ کے لیے کینیڈا جانا چاہتے تھے۔

دوسرے دونوں اشخاص کی ضمانت کی درخواست کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

امریکی حکومت کا موقف ہے کہ انہیں ملک بدر کر دینا چاہیئے کیونکہ ان کے ویزے کی مدت ختم ہو گئی ہے جبکہ ان افسران کا موقف ہے کہ طالبان باغیوں نے انہیں امریکہ کی امداد کرنے کی بنا پر دھمکی دی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوج سے بھاگنے پر انہیں افغان حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائی کا بھی خدشہ ہے۔

ان کے وکیل کے بقول سیاسی پناہ کے حصول کے لیے ان کے موقف میں وزن ہے اور وہ ان افراد کی رہائش اور ان کے مقدمے کے اخراجات کے لیے رقم اکھٹی کرنے کی ایک مربوط کوشش بھی کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG