رسائی کے لنکس

قبائلی شدت پسند نہیں بلکہ محب وطن ہیں: قبائلی رہنما

  • شیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ملک اکبر خان کا کہنا تھا کہ مقامی قبائل نہ تو دہشت گرد ہیں اور نہ ہی اس کی حمایت کرتے ہیں اور قبائلیوں کے بارے میں پایا جانے والا عام تاثر سراسر غلط ہے جس کا انھیں دکھ ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے اور یہاں سے لگ بھگ پانچ لاکھ افراد نقل مکانی کر کے ملک کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں۔

تقریباً ایک دہائی سے افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے کو ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کی آماجگاہوں کی وجہ سے شدت و انتہا پسندی کا گڑھ تصور کیا جاتا رہا ہے۔

لیکن نسل در نسل یہاں آباد مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے لوگ حب الوطنی میں کسی بھی پاکستانی سے کم نہیں اور انھوں نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔

فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرکے بنوں آنے والوں میں ایک قبائلی رہنما ملک اکبر خان بھی شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مقامی قبائل نہ تو دہشت گرد ہیں اور نہ ہی اس کی حمایت کرتے ہیں اور قبائلیوں کے بارے میں پایا جانے والا عام تاثر سراسر غلط ہے جس کا انھیں دکھ ہے۔

"جو حکومت کا یا پاکستان کا مخالف ہے ہم اس کے مخالف ہیں، ہم نے پاکستان بننے سے پہلے بھی اس کے بعد بھی پاکستان کے لیے قربانیاں دیں اس کی مغربی سرحد پر اس کی حفاظت کی بغیر کسی تنخواہ کے، یہ ہمارا ملک ہے یہ ہماری مادر وطن ہے، تو ہم آگے بھی اس کی حفاظت کریں گے، لیکن جو ہمارے بارے میں سوچتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں تو ایسا نہیں ہے، یہ غلط بات ہے۔"

وفاق کے زیر انتظام سات قبائلی علاقوں پر مشتمل فاٹا میں پاکستان کے آئین و قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اور یہاں کے لوگ مقامی قبائلی جرگوں اور پولیٹیکل انتظامیہ کے فیصلوں کے پابند ہوتےہیں۔

شمالی وزیرستان سے آئے ہوئے ایک اور قبائلی رہنما ملک پیر عاقل م زمان کا کہنا تھا کہ ان کے لوگوں نے افغانستان میں روسی جارحیت کے وقت پاکستانی سرحد کا دفاع کیا اور وہاں سے آنے والے سینکڑوں مہاجرین کو اپنے علاقوں میں پناہ بھی دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت آنے والے لوگوں میں ایسے عناصر بھی یہاں آئے جنہوں نے بعد میں شدت پسندی کا راستہ اختیار کیا تو اس بارے میں انھیں علم نہیں۔

"اس وقت حکومت نے کہا کہ ان لوگوں کو پناہ دو مدینے کی روایت کو زندہ کرو تو ہم نے چھ سات لاکھ لوگوں کو جو افغانستان سے اپنے گھر کھول دیے، اب اس میں کون غلط تھا کون صحیح اس کی تو ہم تمیز نہیں کر سکتے تھے۔"

نقل مکانی کر کے آنے والے لوگوں کی طرح یہ قبائلی رہنما بھی اپنے علاقے کی صورتحال پر خاصے رنجیدہ ہیں اور ان کے بقول بنوں میں ان بے گھر افراد کے لیے ناکافی سہولتوں کی وجہ سے ان کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG