رسائی کے لنکس

امریکی ٕمحکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان، جین ساکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا میں جاری تشدد کی اِس کارروائی پر امریکہ کو ’گہری تشویش‘ ہے، جِس سے ’وسیع تر تنازع‘ جنم لے سکتا ہے

لیبیا کے دارالحکومت میں واقع بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کنٹرول کے حصول کے لیے، ملیشیاؤں کے مابین کئی گھنٹوں سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔


تشدد کی یہ جھڑپ اتوار کی علی الصبح اُس وقت چھڑی جب ایک مسلح اسلامی گروپ نے ’زِنتان‘ ملیشیا کے جنگجوؤں پر حملہ کیا، جو 2011ء میں معمر قذافی کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے طرابلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قابض ہیں۔ پچھلے چھ ماہ کے دوران ملک میں ہونےوالی یہ شدید ترین لڑائی تھی۔

لیبیائی انقلاب سے متعلق’آپریشنز سیل‘ نے، جو اسلام پسند ملیشیاؤں کا ایک اتحاد ہے، ذمہ داری قبول کی ہے۔

متحارب گروپوں کو دونوں سیاسی دھڑوں کے مسلح عسکریت پسند خیال کیا جا رہا ہے، جو ’لبرل‘ اور ’اسلام پسندوں‘ پر مشتمل ہیں، جو لیبیائی پارلیمان میں سبقت کے حصول کے لیےلڑ رہے ہیں۔


ہفتے کے روز، امریکی ٕمحکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان، جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا میں جاری تشدد کی اِس کارروائی پر امریکہ کو ’گہری تشویش‘ ہے، جِس سے ’وسیع تر تنازع‘ جنم لے سکتا ہے۔

ساکی نے لیبیا کے آئین سازی کے مسودے کو تشکیل دینے کی اہمیت پر زور دیا، جس کی بدولت ملک کی تعمیر کا کام ہونا ہے، جس کے لیے انقلاب کے دوران لیبیا کے عوام نےگراں قدر قربانیاں دی تھیں۔

نئے آئین کو، قذافی کے مطلق العنان دور کے بعد اِس شمال افریقی ملک کے عبوری دور میں ایک ستون کا درجہ حاصل ہے۔

لیبیا کو کشیدگی کی صورت حال درپیش ہے، ایسے میں جب حکومت اور پارلیمان اُن ملیشیاؤں کو کنٹرول نہیں پائے، جِن کی مدد سے قذافی کو معطل کیا گیا، لیکن اب وہ سرکاری اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG