رسائی کے لنکس

ٹرمپ انتظامیہ کے پاکستان سے تعلقات کیسے ہوں، ماہرین کی منقسم رائے


(فائل فوٹو)

امریکی عہدیداروں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو مزید کچھ کرنا ہو گا۔

امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خطے میں پاکستان پر بطور ایک اتحادی کے انحصار کرتا رہا ہے اور گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو واشنگٹن کی طرف سے اربوں ڈالر بطور امداد دیئے گئے۔

لیکن پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن یا بھرپور کارروائی سے گریز یا معذوری پر امریکی فوجی اور سفارتی عہدیداروں کی طرف سے بارہا تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

نئی امریکی انتظامیہ اس خطے میں اپنی خارجہ پالیسی کے بعض اہم چیلنجوں سے متعلق اپنی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے اور اس بارے میں ماہرین کی طرف سے ملی جلی رائے سامنے آئی ہے کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ کو پاکستان سے تعلقات کے لیے کیسی حکمت عملی اپنانی چاہیئے۔

شمیلہ چوہدری، جان ہاپکنز اسکول آف ایڈوانس انٹرنیشنل اسٹیڈیز میں جنوبی ایشیا سے متعلق شعبے سے وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’اب لوگ بہت ہوشیار ہیں کہ خطے کی ضروریات کیا ہیں، (وہ جانتے ہیں کہ) کہاں پالیسی کام کر رہی ہے اور کہاں نہیں۔‘‘

واشنگٹن میں قائم ’مڈل ایسٹ انسٹیٹویٹ‘ میں امریکہ کی پاکستان اور افغانستان سے متعلق پالیسی کے بارے میں ایک مباحثے کے دوران بات کرتے ہوئے شمیلہ چوہدری نے کہا کہ ’’ہم نے مسائل کے حل کے لیے ایک اہم خاکہ تیار کیا ہے۔۔۔ لیکن اس وقت ہمارے پاس (اس بارے میں جواب نہیں ہیں) اور میرے خیال میں جب ہم جائزہ لیں گے تو اس بارے میں ہمیں غور کی ضرورت ہو گی۔‘‘

گزشتہ دس سال کی ناکامیاں؟

لیزا کیرٹس، ہیریٹج فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں اور اُن کا موقف ہے کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران امریکہ کی پاکستان سے متعلق پالیسی ناکام رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’نکتہ آغاز کے طور پر میں یہ تجویز کروں گی کہ ہم گزشتہ 10 سالوں کے دوران پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی کی ناکامیوں کو دیکھیں۔‘‘

لیزا کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ کہوں گی کہ ہمیں ایک واضح حکمت عملی اپنانا ہو گی کہ پاکستان کی مسلسل مدد امریکہ کی قومی سلامتی کے مفادات کے لیے کس طرح مضر ہو سکتی ہے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’’15 سال بعد بھی طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق نمائندہ خصوصی ڈینیئل فلڈمین، لیزا کرٹس کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’وہ لیزا کے اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے کہ (پاکستان سے متعلق امریکہ کی پالیسی) مکمل طور پر ناکام رہی۔ میرے خیال میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہت سی (جہتیں) چیزیں ہیں اور ہم نے کسی نا کسی طریقے سے سب کو آزمایا ہے۔‘‘

ڈینیئل فلڈمین نے کہا کہ سابق صدر براک اوباما کے دور میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ’’اسٹرایٹیجک مذاکرات شروع ہوئے، لیکن (تعلقات) نچلی سطح پر بھی آئے۔‘‘

امداد میں کمی حل نہیں

ڈینیئل فلڈمین نے کہا کہ جب امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے ہر طرح کی امداد بند کی گئی، تو اس سے ضروری نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر جان گل نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا جائزہ لینے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہر چیز کو دوبارہ سے شروع کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ ایک اور جائزہ لیا جائے ’’اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ضروری طور پر اسے تبدیل کریں‘‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ پالیسی کے وہ حصے جو درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں ’’اُنھیں جاری رکھنے کے بارے میں ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے، چاہے وہ ماضی کی حکومت (کی پالیسی کا حصہ ہی) کیوں نا ہوں۔‘‘

تاہم بعض مبصرین نے تجویز کیا کہ پاکستان کے بارے میں مختلف نقطہ نظر اپنانا چاہیئے۔

ہیریٹج فاؤنڈیشن کی لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ در حقیقت ماضی میں جب بھی ہم نے پاکستان پر شرائط عائد کرنے کے بارے میں سوچا یا حقیقت میں ایسا کیا تو یہ نقطہ نظر سامنے آیا کہ پاکستان جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے، جس کے بعد اس بارے میں بات چیت رک گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ خطے میں انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکہ کے مفادات اتنے اہم ہیں کہ ’’ہمیں پاکستان کا متبادل ردعمل حاصل کرنے کے لیے کچھ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہونا ہو گا۔‘‘

ہڈسن انسٹیٹویٹ کے ڈائریکٹر برائے جنوبی و وسطی ایشیا، اور پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کہتے ہیں کہ جب پاکستان کے ردعمل میں تبدیلی کی بات کی جاتی ہے تو اس میں مثبت و منفی دونوں طرح کی مضمرات ہو سکتے ہیں۔

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ ’’میرے خیال میں زیادہ تر لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا، بھارت اور افغانستان سے تعلقات میں تبدیلی لانا ہو گی لیکن یہ تبدیلی اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ دنیا کی پاکستان سے متعلق پالیسیاں نہیں بدلیں گی۔‘‘

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکہ کے مفادات پاکستان کی اسٹرایٹیجک پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ کی طرف سے مسلسل اعانت سے صرف یہ اُمید ملی کہ دہشت گردی سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں بتدریج تبدیلی آئے گی لیکن اس سے صرف پاکستانی معیشت کو کچھ کشن ملا، اور (پاکستان نے) اپنی پالیساں جاری رکھنے کے لیے بہتر فوجی سازوسامان خریدا۔‘‘

پاکستان کی فوجی اور عسکری قیادت کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے نا صرف جانی قربانی دی بلکہ ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان اُٹھانا پڑا۔

پاکستان کے ’اسٹیٹ بینک‘ کی گزشتہ سال شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کو 2002 سے 110 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

امریکی عہدیدار پاکستان کی ان کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہت اہم ہیں۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے گزشتہ ہفتے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے کہا تھا کہ ’’پاکستان امریکہ تعلقات بدستور اہم ہیں۔‘‘

تاہم امریکہ کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو مزید کچھ کرنا ہو گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے حال ہی میں نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ ’’ہم نے کچھ پیش رفت دیکھی ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ (دہشت گردوں کی) محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کچھ اقدامات کیے گئے ہی۔ لیکن مسئلہ ابھی موجود ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو پاکستان کے ساتھ ہماری جاری بات چیت کا حصہ ہے۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG