رسائی کے لنکس

ٹرمپ کی جانب سے انتخابی دھاندلی کی تفتیش پر زور


فائل

وائٹ ہاؤس ترجمان نے مزید تفصیل نہیں بتائی، آیا یہ تفتیش کون کرے گا یا اِس کا آغاز کب سے ہوگا۔ تاہم، اسپائسر نے کہا ہے کہ تفتیش کار بے ضابطگیوں کا کھوج لگائیں گے، مثلاً ووٹر فہرستوں کی پرانی رجسٹریشن، ووٹر کا ایک مقام سے دوسرے منتقل ہونا؛ یا ایک سے زائد بار ووٹ کا اندراج

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نومبر کے صدارتی انتخابات میں ووٹر دھاندلی کی ’’اہم‘‘ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے، جس سے اُن کی جانب سے اس یقین کا اظہار ہوتا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی تارکینِ وطن نے ووٹ ڈالے، جس کے باعث اُنھیں قومی پاپولر ووٹ میں فتح حاصل نہ ہو سکی۔

بدھ کے روز ایک ٹوئٹر پیغام میں، ٹرمپ نے چھان بین کے اقدام کا اعلان کیا۔

تاہم، بدھ کی بریفنگ کے دوران، وائٹ ہاؤس ترجمان، شان اسپائسر نے اس تفتیش کے دائرہٴ کار کو وسیع کرنے کا ذکر کیا۔

اُن کے بقول، ’’یہ محض 2016ء کے انتخابات کا معاملہ نہیں ہے، یہ ہمارے ووٹنگ کے نظام کی ساکھ کا معاملہ ہے‘‘۔

اسپائسر نے مزید تفصیل نہیں بتائی، آیا یہ تفتیش کون کرے گا یا اِس کا آغاز کب سے ہوگا۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ تفتیش کار بے ضابطگیوں کا کھوج لگائیں گے، مثلاً ووٹر فہرستوں کی پرانی رجسٹریشن، ووٹر کا ایک مقام سے دوسرے منتقل ہونا؛ یا ایک سے زائد بار ووٹ کے اندراج کا معاملہ۔

اسپائسر نے کہا کہ اس ضمن میں ’’اِسی ہفتے‘‘ مزید تفصیل سامنے آ جائیں گے۔

اس معاملے کی جانب منگل کو اُس وقت دھیان مبذول ہوا جب اسپائسر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ 30 لاکھ سے 50 لاکھ غیرقانونی تارکین وطن نے ناجائز طور پر ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی، مدِ مقابل صدارتی امیدوار، ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیا۔

ادھر، انتخابی اہل کار، جنھوں نے آٹھ نومبر کی ووٹنگ کا تجزیہ کیا ہے، کہا ہے کہ انتخابی دھاندلی کا کسی طور پر کوئی عندیہ نہیں ملا، یقینی طور پر اس درجے کی نہیں جتنا کہ ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں۔

چالیس ریاستوں کے انتخابی اہل کاروں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں جس سے صدر ٹرمپ کی جانب سے ووٹوں میں دھاندلی کا دعویٰ ثابت ہوتا ہو۔ تاہم، ہم انتظامیہ کی تشویش کے بارے میں آگہی حاصل کرنے پر تیار ہیں‘‘۔ یہ مراسلہ ’نیشنل ایسو سی ایشن آف سکریٹریز آف اسٹیٹ (این اے ایس ایس) نے جاری کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG