رسائی کے لنکس

ٹرمپ اور کلنٹن کی نظریں نیو یارک میں کامیابی پر


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اگرچہ نیویارک میں کامیابی ٹرمپ اور کلنٹن کے لیے ایک بڑا قدم ہو گی، مگر یہ فیصلہ کن کامیابی نہیں ہو گی۔

صدارتی انتخاب میں صف اول کے دو امیدوار ڈیموکریٹ ہلری کلنٹن اور ری پبلکن ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو ہونے والے پرائمری صدارتی انتخابات سے قبل نیویارک میں اپنی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

عوامی جائزوں کے مطابق کلنٹن اور ٹرمپ دونوں نیویارک میں پسندیدہ امیدوار ہیں اور وہاں کامیابی سے ان کی پوزیشن کو تقویت ملے گی۔

ٹرمپ کے لیے ان کی اپنی ریاست میں کامیابی اپنی پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں اہم قدم ثابت ہو گی۔

ٹرمپ کی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ جولائی میں کلیولینڈ میں ری پبلکن پارٹی کے قومی کنونشن میں براہ راست نامزدگی کے لیے درکار 1,237 مندوبین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تاہم ایسا کرنے کے لیے انہیں نیویارک کے تمام 95 مندوبین کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔

کچھ مبصرین نے حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے نرم لب ولہجے کا مشاہدہ کیا ہے اگرچہ وہ اب بھی کچھ ریاستوں میں مندوبین کے چناؤ کے ’’دھاندلی پر مبنی‘‘ طریقے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں جہاں ان کے حریف ٹیڈ کروز کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ٹرمپ دو ہفتے قبل وسکونسن میں کروز کے ہاتھوں شکست سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اختتامِ ہفتہ بھی وائیومنگ میں ہونے والے کنونشن میں ٹیڈ کروز تمام 14 مندوبین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

کروز منگل کو نیویارک میں کچھ مندوبین کی حمایت حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں مگر انہیں ٹرمپ کے خلاف کامیابی کا اگلا بڑا موقع 3 مئی کو ملے گا جب انڈیانا میں پرائمری انتخابات ہوں گے۔

کروز اپنی اس دلیل پر قائم ہیں کہ اگر ری پبلکن پارٹی نے ٹرمپ کو نامزد کیا تو اس سے یہ بات تقریباً یقینی بن جائے گی کہ اگلی صدر ہلری کلنٹن ہوں گی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی دوڑ میں ہلری کلنٹن اپنے حریف برنی سینڈرز پر واضح برتری حاصل کرنے کی امید رکھتی ہیں۔ سینڈرز نے حالیہ دنوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کلنٹن کے لیے اپنے آپ کو صف اول کی امیدوار ثابت کرنے کے لیے نیویارک میں جیتنا ضروری ہے۔

سینڈرز نے جمعے کو اپنی مہم میں توقف کرتے ہوئے ویٹیکن میں اقتصادی عدم مساوات پر ایک کانفرنس میں شرکت کی جو ان کی مہم کا ایک بنیادی موضوع ہے۔

انہوں نے اس موقع پر پوپ فرانسس سے بھی ملاقات کی۔

تاہم جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نیو یارک میں سینڈرز کو بہت مشکل کا سامنا ہے۔ سینڈرز کا کہنا ہے کہ ری پبلکن جماعت کسی کو بھی نامزد کرے وہ اس کے مقابلے میں زیادہ مضبوط امیدوار ہوں گے۔

سینڈرز نے اس تاثر کی بھی نفی کرنے کی کوشش کی کہ نامزدگی حاصل کرنے کے لیے نیویارک میں ان کا جیتنا ضروری ہے۔

سینڈرز بعد میں ہونے والے پرائمری انتخابات پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں جن میں 7 جون کو متوقع کیلیفورنیا کی پرائمری بھی شامل ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ان کا پیغام اب بھی تاثیر رکھتا ہے۔

اگرچہ نیویارک میں کامیابی ٹرمپ اور کلنٹن کے لیے ایک بڑا قدم ہو گی، مگر یہ فیصلہ کن کامیابی نہیں ہو گی۔

نیویارک میں کامیاب ہونے کے بعد بھی کلنٹن کو جولائی میں پارٹی کنونشن تک سینڈرز کو پیچھے رکھنے کے لیے ایک طویل سفر طے کرنا ہو گا۔

XS
SM
MD
LG