رسائی کے لنکس

کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ اپنے چناؤ کا اعلان اوہائیو کے وسط مغربی شہر، کلیولینڈ میں منعقد ہونے والے ری پبلیکن پارٹی کے کنویشن کے آغاز سے پہلے کردیں گے، جو 18 جولائی سے شروع ہونے والا ہے۔ کلنٹن چند مزید روز انتظار کر سکتی ہیں، جب اُنھیں معلوم ہوجائے گا کہ ٹرمپ کس شخص کا چناؤ کرتے ہیں

متوقع امریکی صدارتی امیدواروں، ری پبلیکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن کے لیے وقت قریب آرہا ہے جب اُنھیں اپنے نائب صدر کا چناؤ کرنا ہوگا۔

ری پبلیکن پارٹی کا قومی کنوینشن دو ہفتوں میں شروع ہونے والا ہے جب کہ ایک ہفتہ بعد ڈیموکریٹک کنوینشن ہوگا۔ دونوں متوقع امیدوار اپنی فہرست کو مختصر کر رہے ہیں، اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ ایسا چناؤ اُن کے اپنے انتخاب کے لیے سودمند ثابت ہوا؛ جب کہ دوسری صورت میں جب عہدہ صدارت کے دوران اگر کسی منتخب صدر کا انتقال واقع ہو جائے تو وہ کار سرکار چلا سکیں۔

ٹرمپ جائیداد کے ارب پتی کاروباری شخص ہیں۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو اُنھیں واشنگٹن کی سیاسی ثقافت سے مانوس کرے اور کانگریس سے اُن کی قانون سازی کے پروگرام کو بڑھاوا دینے میں مدد دے سکیں، جب کہ خود اُنھوں نے کبھی کوئی عوامی عہدہ نہیں سنبھالا۔

متعدد امریکی سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وہ امریکی ایوانِ نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ کے نام پر غور کرسکتے ہیں، جنھوں نے سنہ 1999 میں اس عہدے پر کام کیا تھا، حالانکہ وہ 2012ء میں ری پبلیکن پارٹی کی صدارت کے ناکام امیدوار رہ چکے ہیں؛ دوسرے شخص نیو جرسی کے گورنر کرس کرسٹی ہیں جو 2016ء کی صدارتی نامزدگی کے لیے میدان میں تھے، جس کے بعد اُنھوں نے نام واپس لیا اور ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا۔

ایسے میں جب موجودہ نائب صدر جو بائیڈن، جو ڈیموکریٹ ہیں، اُنھوں نے کلنٹن کے انتخاب کی توثیق کی ہے، اُنھوں نے گنگرچ کو مشورہ دیا کہ وہ ٹرمپ کی ٹکٹ کی پیش کش قبول کریں، اگر اپنے وقت کے ٹیلی ویژن ریلٹی شو کے میزبان اُنھیں اپنا ساتھی چنتے ہیں۔

بقول بائیڈن ’’نیوٹ اور ہم کئی باتوں پر اتفاق نہیں کرتے‘‘۔ اُنھوں نے یہ بات حالیہ دِنوں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کہی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’وہ ایک چمکتا ستارہ ہیں۔ وہ حکومتی کاروبار کو جانتے ہیں۔ وہ معاملات کی پرکھ رکھتے ہیں۔ مجھے خوشی ہوگی کہ نیوٹ جیسا باصلاحیت شخص جو معاملات کو گہرائی سے جانتا ہے، اس عہدے کے لیے لڑے۔ یہی معاملات ہوتے ہیں جب تعلقات، ذاتی جان پہچان واقعی، واقعی، واقعی اہمیت رکھتی ہے‘‘۔

تاہم، ٹرمپ نے ابھی اس انتخاب کی جانب قدم نہیں بڑھایا۔ برعکس اس کے، وہ ممکنہ مزید افراد س رابطے میں ہیں، جن میں انڈیان کے گورنر مائیک پینس شامل ہیں، جن سے وہ اتوار کو ملے؛ جب کہ پیر کو آئیوا کے سینیٹر جونی ارنسٹ سے مل رہے ہین۔

ٹرمپ نے پیر کے روز ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ جو افراد نائب صدر کے چناؤ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، اُن سے نہیں پوچھا گیا‘‘۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کلنٹن کے پاس بھی ممکنہ امیدواروں کے ایک طویل فہرست ہے، جن میں سے ورجینا کے سینیٹر ٹِم کین؛ کسی وقت میساچیوسٹس کی وسط اوقیانوس کی ریاست کی سینیٹر الزبیتھ وارن شامل ہیں، جنھوں نے گذشتہ ہفتے کلنٹن کے ہمراہ ایک ریلی سے خطاب کے دوران ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ دو دیگر سینیٹر، اوہائیو کے شیروڈ براؤن اور نیو جرسی کے کوری بوکر؛ اور صدر اوباما کی کابینہ کے دو ارکان وزیر محنت تھومس پریز اور وزیر بلدیات جولیان کاسترو شامل ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ اپنے چناؤ کا اعلان اوہائیو کے وسط مغربی شہر، کلیولینڈ میں منعقد ہونے والے ری پبلیکن پارٹی کے کنویشن کے آغاز سے پہلے کردیں گے، جو 18 جولائی سے شروع ہونے والا ہے۔ کلنٹن چند مزید روز انتظار کر سکتی ہیں، جب اُنھیں معلوم ہوجائے گا کہ ٹرمپ کس شخص کا چناؤ کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG