رسائی کے لنکس

کومی پر ایف بی آئی کے قائم مقام چیف کا صدر ٹرمپ سے اختلاف


ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹر اینڈیو مک کابی سینیٹ کی ایک کمیٹی میں اپنی گواہی ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ 11 مئی 2017

کیپیٹل ہل میں سماعت کے لیے پیش ہونے والے ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹر اینڈیو مک کابی کا کہنا تھا کہ سابق ڈائریکٹر کومی کو ایف بی آئی میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل تھی اور انہیں آج تک یہ حمایت حاصل ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کی بر طرفی اور گزشتہ سال کے امریکی انتخابات میں روسی دخل اندازی کے بارے میں جاری تفتیش کی صورتحال پر دعووں اور جوابی دعووں کا سلسلہ واشنگٹن بھر میں جاری رہا۔ وائس آف امریکہ کے مائیکل براؤن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹر نے وائٹ ہاؤس کے ان دعووں سے اختلاف کیا کہ مسٹر کومی اس وقت ادارے کا اعتماد کھو چکے تھے جب صدر نے انہیں بر طرف کیا۔

وہائٹ ہاؤس نے اس شخص کی برطرفی کے لیے متعدد جواز پیش کیے ہیں جنہوں نے روس کے بارے میں تفتیش کی نگرانی کی تھی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے۔

جب کہ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈز نے کہا تھا کہ ایف بی آئی کے اہم عہدے دار اپنے ڈائریکٹر پر اعتماد کھو چکے تھے۔

جب کہ کیپیٹل ہل میں سماعت کے لیے پیش ہونے والے ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹر اینڈیو مک کابی کے مطابق صورتحال یہ نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھاکہ ڈائریکٹر کومی کو ایف بی آئی میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل تھی اور انہیں آج تک یہ حمایت حاصل ہے۔

سینیٹرز کے سوالات صدر ٹرمپ کی جانب سے کومی کی برطرفی کے خط کے بارے میں تھے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کومی انہیں تین مواقعوں پر یہ بتا چکے تھے کہ وہ روسی چھان بین کا کوئی ہدف نہیں ہیں۔

ری پبلکن سینیٹرسوسین کولنز کا کہنا تھا کہ یہ ایف بی آئی کی معمول کی کارروائی کا حصہ ہے کہ وہ کسی شخص کو اس بارے میں مطلع کرے کہ وہ کسی چھان بین کا ہدف نہیں ہے۔

ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹراینڈریو مک کابی کہتے ہیں کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے کہ وہ معمول کی ایک کارروائی ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے این بی سی کو ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ أصل میں نے کومی سے پوچھا تھا۔ ہاں میں نے کہا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے، کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ کیا میں زیر تفتیش ہوں تو انہوں نے کہا آپ کسی تفتیش کے تحت نہیں ہیں ۔

اسی دوران ڈیمو کریٹس کی جانب سے کومی کی برطرفی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

سینیٹر مارک وارنرنے کہا کہ و ہ ٹرمپ کی انتخابي مہم اور روسی حکومت یا اس کے نمائندوں کے درمیان کسی تعلق پر انٹیلی جینس کی ایک فعال جوابی جاسوسي کارروائی کی قیادت کررہے تھے ۔۔۔۔ تو اس نتیجے سے گریز مشکل ہے کہ صدر کی جانب سے ڈائریکٹر کومی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ اس تفتیشی کارروائی سے منسلک تھا ۔ اور یہ ناقابل قبول ہے۔

کچھ ری پبلکنز نے کومی کی برطرفی کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ صدر کو ایسا کرنے کا مکمل اختیار حاصل تھا۔ اگرچہ کومی جا چکے ہیں تاہم ایف بی آئی کا اب بھی إصرار ہے کہ تفتیش کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔ ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹراینڈریو مک کابی کا کہنا ہے کہ حالات میں کسی بھی تبدیلی کے باوجود ایف بی آئی کے عملے کے مردوں اور خواتین کا کام جاری رہتا ہے۔

مسٹر کومی پروگرام کے مطابق جمعرات کو سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹی کے سامنے کھلم کھلا گواہی دے چکے ہیں۔ انہیں اب ایک پرائیویٹ شہری کے طور پر اگلے ہفتے بند دروازوں کے پیچھے کمیٹی کے سامنے گواہی دینے کے لیے کہا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG