رسائی کے لنکس

ٹرمپ کا ’ایف بی آئی‘ کے ڈائریکٹر کو ہٹانے کے فیصلے کا دفاع


بدھ کے روز متعدد ٹوئیٹس میں، ٹرمپ نے کہا کہ کومی ’’کی جگہ ایسے فرد کو تعینات کیا جائے گا جو کہیں بہتر کام کریں گے، جس سے ایف بی آئی کا جذبہ اور عزت بحال ہوگی‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایف بی آئی کے سربراہ، جمیز کومی کو ہٹانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھوں نے واشنگٹن میں ہر ایک، ’’بشمول ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ‘‘ کا اعتماد کھو دیا تھا۔

بدھ کے روز متعدد ٹوئیٹس میں، ٹرمپ نے کہا کہ کومی ’’کی جگہ ایسے فرد کو تعینات کیا جائے گا جو کہیں بہتر کام کریں گے، جس سے ایف بی آئی کا جذبہ اور عزت بحال ہوگی‘‘۔

کومی کو معطل کرنے کے اقدام کے ناقدین کہتے ہیں کہ اس سے ایف بی آئی کی جانب سے نومبر کے صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مشیروں اور روسی مفادات کی ممکنہ ملی بھگت کے معاملے کی چھان بین کے بارے میں سوال اٹھتے ہیں۔

منگل کو ایک دو ٹوک مراسلے کے ذریعے، ٹرمپ نے کومی کو بتایا کہ ’’آپ کو فوری طور پر اپنے عہدے سے معطل کرکے ہٹایا جاتا ہے‘‘۔ صدر نے مزید کہا کہ کومی ’’بیورو کی مؤثر قیادت نہیں کر پائے‘‘۔

امریکی ’فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن‘ کے ڈائریکٹروں کو 10 برس کی میعاد کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔ کومی کو چار برس قبل تعینات کیا گیا تھا۔

کومی کیلی فورنیا میں ’ایف بی آئی‘ کے ملازمین کے ایک گروپ سے گفتگو کر رہے تھے، جب اُنھیں پتا چلا کہ اُنھیں برطرف کر دیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اُنھوں نے معطل کیے جانے کی خبر ٹیلی ویژن اسکرین پر دیکھی۔ لیکن، ابتدائی طور پر اُنھیں یہ گمان گزرا کہ شاید مذاق کیا جا رہا ہے۔ ابھی تک اُنھوں نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

کومی کی معطلی کی وجوہات اٹارنی جنرل جیف سیشنز اور اُن کے معاون، روڈ روزنسٹائن کی جانب سے جاری کردہ دو خطوط میں بیان کی گئی ہیں۔ اِن میں کومی پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔


روزنسٹائن نے تحریر کیا ہے کہ کومی نے قومی انتخاب کے دوران ٹرمپ کی مدِ مقابل امیدوار، ہیلری کلنٹن کی اِی میلز کی تفتیش کی تکمیل سے متعلق ’’کھلی غلطیاں‘‘ کرنے، اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر پر اٹارنی جنرل کے اختیارات استعمال کرنے کا الزام لگایا، جب کومی ازخود اس نتیجے پر پہنچے کہ سابق وزیر خارجہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی ضرورت نہیں۔


ابھی یہ واضح نہیں آیا ٹرمپ نے منگل کے روز یہ اقدام کیوں لیا، جب کہ یہ معاملہ مہینوں پہلے، اُن کی جانب سے نومبر کے صدارتی انتخاب جیتنے سے بھی پہلے کی بات ہے۔


سینیٹ جوڈیشری کمیٹی سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن امیدوار، لِنڈسی گراہم نے کہا ہے کہ ’’ڈائریکٹر کے گِرد گردش کرنے والے حالیہ اختلافات کے پیشِ نظر، میرے خیال میں نئے سرے سے ابتدا ایف بی آئی اور ملک کے لیے نیک شگون ہوگی‘‘۔

لیکن، ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے چند دیگر ارکانِ کانگریس کے نزدیک صدارتی اقدام سے قانون کی خلاف ورزی سرزد ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG