رسائی کے لنکس

تحقیقات کے لیے خصوصی مشیر کا تقرر امریکہ کے لیے باعث نقصان ہے: ٹرمپ


صدر ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اس بات کو واضح طور پر مسترد کر دیا کہ انہوں نے ایک سابق معاون کی تفتیش روکنے کے لیے وفاقی تحققاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ پر دباؤ ڈالا تھا۔

صدر نے 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران روس کے ساتھ ممکنہ رابطوں کی تحققیقات کے لیے ایک خصوصی مشیر مقرر کرنے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

ایک نامہ نگار نے جب ان سے یہ پوچھا کہ کیا انہوں نے ’’ایف بی آئی‘‘ کے ڈائریکٹر جیمز کومی سے یہ کہا تھا کہ وہ قومی سلامتی کے برطرف کیے گئے مشیر مائیکل فلن کے معاملے کے تحقیقات روک دیں تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ "نہیں، نہیں یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔"

12 اپریل کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران، جس میں ان کے ہمراہ امریکہ کا دورہ کرنے والے کولمبیا کے صدر جوان مینوئیل سینتوس بھی شامل تھے، ٹرمپ نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کی مہم اور روسی اہلکاروں کے درمیان کوئی ملی بھگت تھی۔ انہوں نے کہا "حتٰکہ میرے حریف بھی یہ کہتے ہیں کہ کوئی ملی بھگت نہیں تھی۔"

تاہم انہوں نے صرف اپنی بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں صرف اپنی اور روسیوں کی بات کر سکتا ہے۔"

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے متعلق تنازعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں سمجھتا ہو کہ اس سے ملک میں تقسیم پیدا ہوتی ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ہمارا ملک تقسیم ہو گیا ہے۔"

روسی رابطوں سے متعلق والی چھان بین کی نگرانی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’’ایف بی آئی‘‘ کے سابق ڈائریکٹر رابرٹ میولر کو خصوصی مشیر مقرر کرنے کی ضرورت سے متلعق قبل ازیں ٹوئیٹر پر صدر نے اپنے دو پیغامات میں سوالات اٹھائے تھے۔

صدر نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ "کلنٹن کی مہم اور اوباما انتظامیہ کے دور میں ہونے والے غیر قانونی کاموں کے معاملے پر کبھی بھی خصوصی نگران کا تقرر نہیں کیا گیا۔"

بعد ازاں ممتاز ٹی وی نیٹ ورک کے اینکروں کے ساتھ عصرانہ کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ خصوصی پراسیکیوٹر مقرر کرنا "ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔"

ٹرمپ کی طرف سے یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے جب ڈپٹی اٹارنی جنرل راڈ روز نسٹیئن جنہوں نے میولر کو خصوصی پراسکیوٹر مقرر کیا تھا، نے کیپیٹل ہل جا کر پوری سینیٹ کے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کو بریفنگ دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG