رسائی کے لنکس

ٹرمپ صدقِ دل سے اپنی سیاسی اساس کی خدمت پر گامزن: تجزیہ کار


فلوریڈا

تاہم، ٹرمپ اپنے 40 فی صد یا اس سے زیادہ اصل حامیوں کو خوش کرنے کے لیے کوئی بھی کام کرسکتے ہیں، اور اِن میں سے زیادہ تر کا کہنا ہے کہ باوجود اُن کے متنازعہ آغاز کے، اُنھوں نے اب تک جو کچھ حاصل کیا ہے، ہم اُس پر خوش ہیں

رائے عامہ کے تازہ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 40 فی صد کے لگ بھگ ہے، جو کسی نئے صدر کے لیے کم سطح خیال کی جاتی ہے۔

تاہم، ٹرمپ اپنے 40 فی صد یا اس سے زیادہ اصل حامیوں کو خوش کرنے کے لیے کوئی بھی کام کرسکتے ہیں، اور اِن میں سے زیادہ تر کا کہنا ہے کہ باوجود اُن کے متنازعہ آغاز کے، اُنھوں نے اب تک جو کچھ حاصل کیا ہے، ہم اُس پر خوش ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے اپنی سیاسی اساس کو مدِ نظر رکھنے کا منظر حال ہی میں اُس وقت نظر آیا جب صدر نے فلوریڈا میں انتخابی مہم کے انداز میں ایک ریلی سے خطاب کیا۔
ایسے میں جب عہدہ ٴ صدارت کو ایک ہی ماہ ہوا ہے، جس میں کئی کشیدہ لمحات دیکھے گئے، ٹرمپ اپنی سیاسی اساس سے جُڑے رہنے کی دوڑ میں گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے کہ وہ اِس بات کے خواہاں ہیں کہ اپنی سیاسی تحریک کو متحرک رکھیں۔

ٹرمپ نے اپنے پُرجوش حامیوں سے خطاب میں کہا کہ ’’یہ فی الواقع ایک عظیم تحریک تھی اور میرا یہاں آنا ضروری تھا۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا، میں اس بات کا وعدہ کرتا ہوں‘‘۔

ٹرمپ کی جب اپنے ایک پُرجوش حامی، جین ہوبر پر نظر پڑی، تو اُنھوں نے اُنھیں اسٹیج پر کلمات ادا کرنے کے لیے بلایا، حالانکہ خفیہ ادارے کو تحفظات تھے، جو صدر کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ٹرمپ کے متعدد حامیوں کی طرح، ہوبر نے کہا کہ انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کا سہرا صدر کے سر جاتا ہے۔

ہوبر نے کہا کہ ’’جب انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ اِن تمام باتوں کا وعدہ کر رہے تھے تو اُس وقت بھی مجھے اتنا ہی یقین تھا کہ وہ تمام پر عمل درآمد کرکے دکھائیں گے‘‘۔

XS
SM
MD
LG