رسائی کے لنکس

ٹرمپ کی محمود عباس کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت


یہ دعوت نامہ جمعے کے روز روانہ کیا گیا جس سے قبل دونوں سربراہان نے پہلی بار ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ٹرمپ نے فروری کے وسط میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔ یہ بات وائٹ ہاؤس ترجمان، شان اسپائسر نے بتائی ہے، ایسے میں جب مشرق وسطیٰ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

یہ دعوت نامہ جمعے کے روز روانہ کیا گیا جس سے قبل دونوں سربراہان نے پہلی بار ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ٹرمپ نے فروری کے وسط میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی۔

جمعے کو وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران، اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اسپائسر نے دعوت نامے کی تصدیق کی۔ تاہم، یہ نہیں بتایا آیا یہ ملاقات کب ہوگی۔

نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دروان، ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دو ریاستی حل کو اسرائیل فلسطینی تنازع کے لیے ضروری نہیں سمجھتے، جو اُن کی پیش روؤں کی جانب سے کئی برسوں سے اختیار کردہ مؤقف رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ امن عمل اپریل، 2014ء سے تعطل کا شکار رہا ہے، جب اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی قیادت میں بلاواسطہ مذاکرات ناکام ہوئے تھے۔

منگل کے روز، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکی ہیلی نے پہلی مرتبہ اپنے فلسطینی ہم منصب ریاض منصور سے ملاقات کی۔ اقوام متحدہ میں ہونے والی اِس ملاقات کے بعد، ہیلی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام پوسٹ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’فلسطینیوں کو اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شریک ہونا چاہیئے‘‘، بجائے اِس کے کہ حل کے لیے عالمی ادارے سے توقعات وابستہ کی جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG