رسائی کے لنکس

سائبر حملوں کا توڑ، ’’جارحانہ حکمتِ عملی‘‘ اپنائی جائے گی: ٹرمپ


فائل

ایک بیان میں، ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس، چین اور دیگر ملک، گروہ اور افراد مستقل طور پر امریکی حکومت، کاروبار اور سیاسی تنظیموں کے خلاف سائبر ہیکنگ میں مصروف ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ایسی کوششوں کا ’’انتخاب کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا‘‘

منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو، جنھوں نے اِس سوچ کو مسترد کیا ہے کہ حالیہ صدارتی انتخابی عمل میں روس نے مداخلت کی، امریکی انٹیلی جنس کے چوٹی کے اہل کاروں نے جمعے کے روز مکمل بریفنگ دی۔

بعدازاں، ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس اجلاس کو ’’تعمیری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُنھیں ’’اِس کمیونٹی کے مرد و خواتین کی جانب سے ہمارے عظیم ملک کے لیے سرانجام دیے جانے والے کام اور خدمات کا انتہائی احترام ہے‘‘۔

تاہم، اُنھوں نےامریکی انٹیلی جنس اداروں کی رائے کی واضح الفاظ میں توثیق نہیں کی کہ روس نے ’ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی‘ کے کمپیوٹروں کی ہیکنگ کی اور پھر نقصان دہ اطلاعات جاری کیں، جس کے باعث ٹرمپ کو امریکہ کے صدر منتخب ہونے میں مدد ملی۔

ایک بیان میں، ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس، چین اور دیگر ملک، گروہ اور افراد مستقل طور پر امریکی حکومت، کاروبار اور سیاسی تنظیموں کے خلاف سائبر ہیکنگ میں مصروف ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ایسی کوششوں کا ’’انتخاب کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا‘‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد ایک ٹیم نامزد کریں گے جو 90 روز کے اندر ایک منصوبہ تیار کرے گی، تاکہ ’’سائبر حملوں کو روکنے اور اِن کا تدارک کرنے‘‘ کے حوالے سے ’’ایک جارحانہ حکمتِ عملی‘‘ اپنائی جا سکے۔

XS
SM
MD
LG