رسائی کے لنکس

ٹرمپ کی ایران کے جوہری معاہدے کا ازسر جائزہ لینے کی ہدایت


امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کونسل کو ہدایت کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور اس بات کا اندازہ لگایا جائے کہ آیا ایران پر سے تعزیرات معطل کیا جانا "امریکہ کی قومی سلامتی کے مفادات کے لیے اہم ہے" یا نہیں۔

اس بات کا انکشاف وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن کو منگل کو لکھے گئے ایک خط میں کیا۔

ٹلرسن کا کہنا تھا کہ منگل تک ایران 2015ء میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔

لیکن ان کے بقول "باجودیکہ ایران بدستور مختلف جگہوں اور ذرائع سے دہشت گردی کی حمایت کرنے والی ایک بڑی ریاست ہے۔"

مغربی ممالک یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے لیکن ایران ان دعوؤں کی تردید کرتا رہا ہے۔

2015ء میں ہونے والے معاہدے کے تحت اسے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرتے ہوئے صرف اس حد تک یورینیم افژودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی جس سے وہ جوہری توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔

اس کے عوض ایران پر دہائیوں سے عائد اقتصادی پابندیوں کو نرم کر دیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ اس معاہدے کے ناقد رہے ہیں اور ان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ امریکہ ایران پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

اگر امریکہ کی طرف سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو مبصرین کے خیال میں یہ تہران کے لیے بین الاقوامی معاہدے سے علیحدہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG