رسائی کے لنکس

ٹرمپ نے، جو کبھی عوامی عہدے پر فائز نہیں رہے، بدھ کے روز کہا ہے کہ نائب صدر کے لیے وہ ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو سیاسی تجربہ رکھتا ہو

ایسے میں جب ریپبلیکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی واضح ہو چکی ہے، ڈونالڈ ٹرمپ نے اب اپنے نائب صدر کی تلاش کا کام شروع کر دیا ہے، جو عام انتخابات کی دوڑ میں اُن کا ساتھ دیں گے۔

ٹرمپ نے، جو کبھی عوامی عہدے پر فائز نہیں رہے، بدھ کے روز کہا ہے کہ نائب صدر کے لیے وہ ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو سیاسی تجربہ رکھتا ہو۔

ایک سیاست دان جو ریپبلیکن نامزدگی کی خواہاں نہیں ہیں وہ جنوبی کیرولینا کی گورنر، نِکی ہیلی ہیں۔ اُنھوں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ٹرمپ کی نامزدگی کی حمایت کی گئی ہے۔ لیکن، یہ کہ وہ اپنے موجودہ عہدے پر دھیان مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

اُن کے الفاظ میں، ’’مجھے خوشی ہے کہ میرا تذکرہ کیا گیا ہے۔ لیکن، مجھے ساؤتھ کیرولینا میں ہونے والے عظیم ترقیاتی کام پر فخر ہے۔ میں اپنے کام میں مگن ہوں اور مجھے نائب صدر کے طور پر خدمات بجا لانے میں کوئی دلچسپی نہیں‘‘۔

اپنے ساتھی کے چناؤ کا فیصلہ کرنے کے لیے، ٹرمپ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ اپنے سابق حریف، جان کسیک کیسے رہیں گے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ اوہائیو کے گورنر کے نام پر غور کرسکتے ہیں۔

کسیک نے بدھ کو صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا، اُن کی کوشش تھی کہ جولائی میں منعقد ہونے والے ریپبلیکن پارٹی کے کنوینشن میں ووٹنگ کے ذریعے نامزدگی کے معاملے کا فیصلہ ہو، اُس صورت میں کہ ٹرمپ پارٹی ڈیلیگیٹس کی اکثریت کے حصول میں ناکام رہتے ہیں۔ منگل کو انڈیانا میں ٹرمپ کی نمایاں کامیابی کے بعد، اس بات کا امکان معدوم ہو چکا۔

کسیک صرف ایک ہی ریاست میں کامیاب ہوئے تھے، اور اُن کے پاس صرف 153 ڈیلیگیٹس تھے، جب کہ ری پبلیکن پارٹی کی نامزدگی جیتنے کے لیے اُنھیں 1،237 ڈیلیگیٹس درکار تھے۔ ٹیکساس کے سینیٹر، ٹیڈ کروز نے بہتر کارکردگی دکھائی جن کے پاس 566 ڈیلیگیٹس تھے۔ لیکن، منگل کو وہ بھی میدان چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد ٹرمپ کی نامزدگی یقینی لگتی ہے۔

امکان یہ ہے کہ نومبر کے عام انتخابات میں ٹرمپ اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن آمنے سامنے ہوں گے۔ تاہم، ابھی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے کلنٹن کی نامزدگی واضح نہیں، چونکہ دوڑ میں ایک اور امیدوار موجود ہیں۔

ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز نے بدھ کے روز ’سی بی ایس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ جون میں حتمی پرائمری ووٹنگ سے پہلے اُن کا میدان چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

XS
SM
MD
LG