رسائی کے لنکس

مصر کے معروف اسلامی قانونی ادارے، ’دار الافتا‘ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ، ’اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اِس قسم کا مخاصمانہ انداز امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف تناؤ میں اضافہ کرے گا، جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 80 لاکھ ہے، جو پُرامن اور وفادار امریکی شہری ہیں‘

سروان کجو، نور زاہد

دنیا بھر کے مسلمانوں نے ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ کی اُس تجویز کی شدید مذمت کی ہے، جس میں اُنھوں نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ ’اسلام مخالف اور قابلِ حقارت‘ بیان ہے۔

پچھلے ہفتے کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملے کے تناظر میں، جس میں ایک مسلمان جوڑے نے گولیاں چلا کر 14 افراد کو ہلاک کیا، ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ’مسلمانوں کے امریکہ میں داخل ہونے پر یکسر اور مکمل پابندی ہونی چاہیئے‘۔

مصر کے معروف اسلامی قانونی ادارے، ’دار الافتا‘ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ، ’اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اِس قسم کا مخاصمانہ انداز امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف تناؤ میں اضافہ کرے گا، جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 80 لاکھ ہے، جو پُرامن اور وفادار امریکی شہری ہیں‘۔

أفغان پارلیمان کے رُکن، کمال نصر اصولی نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتایا کہ ’وہ (ٹرمپ) ذہنی مریض ہیں‘۔

بقول اُن کے، ’میرے خیال میں، امریکہ کا عوام ایسےشخص کو ووٹ نہیں دے گا‘۔

طاہر اشرف ’علماٴ کونسل‘ کے سربراہ ہیں، جو پاکستانی علما پر مشتمل ادارہ ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ’ٹرمپ کے بیانات نفرت اور تشدد کا کھلا درس دیتے ہیں‘۔

اُنھوں نے رائٹرز کو بتایا کہ، ’اگر کوئی مسلمان رہنما یہ کہے کہ یہ مسیحی اور مسلمانوں کے دمیان لڑائی ہے، تو ہم اُس کی مذمت کرتے ہیں۔ پھر ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی امریکی ایسا بیان دے تو ہم اُس کی مذمت نہ کریں؟‘۔

افتاب احمد شیرپاؤ سینیٹر اور ایک سابق وفاقی وزیر ہیں۔ وہ کہتے ہین کہ ’امریکی ٹرمپ کو قیادت کی ذمہ داری نہیں دیں گے‘۔

’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے، اُن کا کہنا تھا کہ، ’کُند ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، شاید (ٹرمپ) سمجھنے لگے ہیں کہ ایسا کہنے سے امریکہ میں اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ لیکن، وہ غلط ہیں، کیونکہ (امریکی) لوگ مذہبی یکجہتی کے قدرداں ہیں‘۔

طلعت چودھری کا تعلق پاکستان کی حکمراں، مسلم لیگ سے ہے، اور وہ پارلیمان کی رُکن ہیں۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ’ٹرمپ کے بیانات بیرونِ ملک امریکہ کے بارے میں ساکھ کو دھچکہ پہنچا سکتے ہیں‘۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ، ’لوگ وہاں رہنا پسند کرتے ہیں، اور امریکی نظام کے گرویدہ ہیں۔ اِس لیے، میں سمجھتا ہوں (ایسا ہے کہ ٹرمپ) اپنی سیاست اور اپنی ساکھ، دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘۔

انڈونیشا میں، جو دنیا کی سب سے بڑی مسلمان آبادی والا ملک ہے، امور خارجہ کے ترجمان، ارمانتھا ناصر نے کہا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں میں انتخابی مہم میں بیان بازی پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن، اُنھوں نے دہشت گردی پر انڈونیشیا کے مؤقف کے عزم کا اعادہ کیا۔

ناصر نے رائٹرز کو بتایا کہ، ’دہشت گردی کی حرکات کا کسی طور پر بھی کسی مذہب سے، ملک یا نسل سے تعلق نہیں ہوا کرتا‘۔

تاہم، انڈونیشیا کے مذہبی اداروں نے ٹرمپ کی بیان بازی پر براہِ راست نکتہ چینی سے احتراز کیا ہے۔

دین صیام الدین ’احمدیہ جماعت‘ کے سربراہ ہیں، جو ملک کی دوسری بڑی مسلمان تنظیم ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ’ٹرمپ کا بیان ایک اچھا مذاق ہے‘۔

بقول اُن کے، ’اِن بیانات پر ہنسا جا سکتا ہے کہ ایسا بھی شخص ہے کو اس جدید، عالمی قربت کے دور میں اتنی ہیچ سوچ کا مالک ہو سکتا ہے کہ وہ ایک برادری کو امریکہ میں داخل ہونے کی مخالفت کریں‘۔

بنگلہ دیش میں لوگوں نے ٹرمپ کی بیان بازی پر خوف زدہ ہیں، اور کہتے ہیں کہ اِس عمل سے اسلام اور مغرب کے بابین تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

محمد موسیٰ ڈھاکہ میں مقیم ہیں۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ، ’ہمیں ٹرمپ کے بیانات پر پریشانی لاحق ہے۔ وہاں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کا سوچ کر، ہمیں خوف آتا ہے‘۔

شہادت حسین کُھلنا کے مکین ہیں۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی بنگلہ سروس کو بتایا کہ، ’ٹرمپ کا بیان امریکی اقدار اور نظریات کی ترجمان نہیں کرتا۔ ایسے بیانات ہمیں خوف زدہ ضرور کرتے ہیں‘۔

سعودی عرب میں ایک شخص نے ٹویٹ کیا ہے کہ، ’کیسا رہے گا، اگر ہم اُن امریکیوں کو ملازمت سے نکال دیں جو ارامکو اور یہاں کی دیگر تیل کی تنصیبات میں ملازم ہیں، اُن کی چھٹی کرادیں‘۔ اُنھوں نے اپنے ملک میں تیل کے شعبے سے وابستہ ملازمت پیشہ امریکیوں کا حوالہ دیا۔

دوسرے نامعلوم سعودی شہری نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ’ ٹرمپ بہت جلد یہ مطالبہ بھی کر سکتے ہیں کہ تمام امریکی مسلمانوں کو ملک بدر کردیا جائے‘۔

مصر کے مشہور اخبار، ’تحریر نیوز‘ نے اپنے فیس بک پیج پر رائے عامہ کا ایک جائزہ چھاپہ ہے، جس میں اخبار پڑھنے والوں سے سوال کیا گیا ہے آیا ٹرمپ کے مسلمان مخالف بیانات سے امریکہ میں اُن کی مقبولیت اور امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر اُن کی نامزدگی پر اثر پڑے گا۔

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر، مصر کے مشہور مزاح نگار، باصم یوسف نے کہا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نازی حرفت میں بازی لے جانے کا گُر جانتے ہیں‘۔

XS
SM
MD
LG