رسائی کے لنکس

ان ریاستوں میں جہاں انتخابات ہونے باقی ہیں کروز اور کیسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کا راستہ روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ وہ جولائی میں ریپبلکن پارٹی کے کنونشن سے قبل صدارتی نامزدگی کے لیے درکار مندوبین کی حمایت حاصل نہ کر سکیں

منگل کو امریکی کی پانچ شمالی مشرقی ریاستوں میں ہونے والے پرائمری انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچوں اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلری کلنٹن نے چار ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

منگل کو کنکٹیکٹ، ڈیلاویئر، میری لینڈ، پنسلوینیا اور روڈ آئی لینڈ میں دونوں جماعتوں نے پرائمری انتخابات منعقد کرائے گئے اور ان تمام ریاستوں میں ریپبلکن نامزدگی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی۔

ہلری کلنٹن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ پانچ میں سے چار ریاستوں میں کامیاب ہوئی ہیں جن میں میری لینڈ، پنسلوینیا، ڈیلاویئر اور کنکٹیکٹ شامل ہیں جبکہ ان کے حریف برنی سینڈرز روڈ آئی لینڈ میں جیت گئے ہیں۔

منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل ٹرمپ کو 845 مندوبین کی حمایت حاصل تھی جس کے بعد دوسرے نمبر پر ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز 559 مندوبین جب کہ تیسرے نمبر پر اوہائیو کے گورنر جان کیسک اب تک 148 مندوبین کی حمایت حاصل کر چکے ہیں۔

ان ریاستوں میں جہاں ابھی پرائمری انتخابات ہونے باقی ہیں کروز اور کیسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کا راستہ روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ وہ جولائی میں ریپبلکن پارٹی کے کنونشن سے قبل صدارتی نامزدگی کے لیے درکار مندوبین کی حمایت حاصل نہ کر سکیں اور صدارتی امیدوار کا فیصلہ کنونشن میں رائے شماری سے کیا جائے۔

انڈیانا جہاں آئندہ ہفتے پرائمری انتخابات ہوں گے میں ایک انتخابی جلسے میں کروز نے تسلیم کیا تھا کہ انہیں منگل کو پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں کسی میں بھی جیتنے کی توقع نہیں۔ مگر انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ انڈیانا اور نیبراسکا میں جیتنے کی امید رکھتے ہیں جہاں 10 مئی کو پرائمری انتخابات ہوں گے۔

ادھر ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کی چار ریاستوں میں کامیابی سے اب وہ اپنی پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے قریب پہنچ گئی ہیں۔

منگل کے انتخابات سے قبل کلنٹن کو 1,944 مندوبین کی حمایت حاصل تھی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے انہیں کل 2,384 مندوبین کی حمایت درکار ہے۔

XS
SM
MD
LG